نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، وزیراعلیٰ خیبر پی کے کی لاعلمی غیر منطقی سیاسی بیانیہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ خیبر پی کی کم علمی، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی کاروباروں کو قائداعظم کے کھاتے میں ڈال دیا، کیا واقعی قائداعظم محمد علی جناح نے فاٹا کے علاقوں کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے 100 سالہ استثنیٰ دیا تھا؟ نہیں ایسا کچھ نہیں تھا، 29 دسمبر کو لاہور میں سینئر صحافیوں اور کالم نویسوں کی سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی۔ جس میں وزیر اعلیٰ سے متعدد اہم سوالات کیے گئے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے متعلق سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اجازت قائداعظم نے دی تھی، اور یہ کہ قائداعظم نے تمام قبائلی اضلاع کو سو سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دے دیا تھا۔ آزادی کے وقت بعض قبائلی اور سرحدی علاقے ٹیکس سے مستثنیٰ تھے۔ یہ استثنا برصغیر کے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے اور قبائلی معاہدوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ قائداعظم نے ان علاقوں کے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عبوری طور پر اپنے موجودہ نظام کے تحت رہیں گے۔ تاہم یہ بھی طے تھا کہ مستقبل میں ریاست قانون سازی یا آئینی ترامیم کے ذریعے ان علاقوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم و نسق میں شامل کرے گی۔ مالاکنڈ ڈویژن میں سوات، بونیر، شانگلہ، لوئر دیر، اپر دیر، چترال (اپر و لوئر)، مالاکنڈ اور کوہستان کے بعض حصے، جبکہ سابقہ فاٹا میں خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وہ علاقے تھے جنہیں آزادی کے وقت وقتی رعایت دی گئی تھی۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم کی جانب سے کسی مخصوص مدت، خصوصاً سو سال، کا کہیں کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ٹیکس چھوٹ نہ تو مستقل تھی اور نہ ہی غیر مشروط۔ اس کا انحصار ہمیشہ ریاست کی صوابدید، قانون سازی اور آئینی ترامیم پر رہا۔ یہ نظام محض اس لیے جاری رہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی نہیں کی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ انتظامی مشکلات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کے باعث ریاست نے ان علاقوں کو مکمل ریاستی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ بالآخر 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کو خیبر پی کے میں ضم کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل 247 ختم ہوا، جس کے تحت یہ علاقے وفاقی اور صوبائی قوانین، بشمول ٹیکس قوانین، سے مستثنیٰ تھے۔ آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد عام ٹیکس قوانین خود بخود ان علاقوں پر لاگو ہو گئے، اگرچہ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے عبوری بنیادوں پر مزید رعایتیں بھی فراہم کیں جہاں تک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا تعلق ہے، تو 2024ء کے آخر میں جب خیبر پی کے میں موجود دو لاکھ سے زائد NCP گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو سمگلنگ، منشیات اور دہشت گردی سے جڑے بااثر گروہ فوراً متحرک ہو گئے۔ ان گروہوں کے مفادات براہِ راست اس غیر قانونی معیشت سے وابستہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سیاسی سرپرستی میں چلنے والے ایک وسیع ‘‘ٹیرر،کرائم، سمگلنگ نیٹ ورک’’ کا حصہ ہیں۔ ایسا نیٹ ورک جو نہ صرف مقامی معیشت کو یرغمال بنائے ہوئے ہے بلکہ ریاستی رٹ کو بھی کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ 24 نومبر 2024ء کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران خیبر پی کے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کے انکشافات نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی۔ اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے جواز تراشنا محض لاعلمی نہیں بلکہ ایک خطرناک اور غیر منطقی سیاسی بیانیہ ہے۔ مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ ترجیحات، نااہلی اور غیر قانونی سیاسی مفادات کا ہے اور یہی عناصر خیبر پی کے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نان کسٹم پیڈ گاڑیوں علاقوں کو ان علاقوں خیبر پی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔