اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ خیبر پی کی کم علمی، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی کاروباروں کو قائداعظم کے کھاتے میں ڈال دیا، کیا واقعی قائداعظم محمد علی جناح نے فاٹا کے علاقوں کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے 100 سالہ استثنیٰ دیا تھا؟ نہیں ایسا کچھ نہیں تھا، 29 دسمبر کو لاہور میں سینئر صحافیوں اور کالم نویسوں کی سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی۔ جس میں وزیر اعلیٰ سے متعدد اہم سوالات کیے گئے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے متعلق سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اجازت قائداعظم نے دی تھی، اور یہ کہ قائداعظم نے تمام قبائلی اضلاع کو سو سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دے دیا تھا۔ آزادی کے وقت بعض قبائلی اور سرحدی علاقے ٹیکس سے مستثنیٰ تھے۔ یہ استثنا برصغیر کے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے اور قبائلی معاہدوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ قائداعظم نے ان علاقوں کے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عبوری طور پر اپنے موجودہ نظام کے تحت رہیں گے۔ تاہم یہ بھی طے تھا کہ مستقبل میں ریاست قانون سازی یا آئینی ترامیم کے ذریعے ان علاقوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم و نسق میں شامل کرے گی۔ مالاکنڈ ڈویژن میں سوات، بونیر، شانگلہ، لوئر دیر، اپر دیر، چترال (اپر و لوئر)، مالاکنڈ اور کوہستان کے بعض حصے، جبکہ سابقہ فاٹا میں خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وہ علاقے تھے جنہیں آزادی کے وقت وقتی رعایت دی گئی تھی۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم کی جانب سے کسی مخصوص مدت، خصوصاً سو سال، کا کہیں کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ٹیکس چھوٹ نہ تو مستقل تھی اور نہ ہی غیر مشروط۔ اس کا انحصار ہمیشہ ریاست کی صوابدید، قانون سازی اور آئینی ترامیم پر رہا۔ یہ نظام محض اس لیے جاری رہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی نہیں کی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ انتظامی مشکلات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کے باعث ریاست نے ان علاقوں کو مکمل ریاستی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ بالآخر 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کو خیبر پی  کے میں ضم کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل 247 ختم ہوا، جس کے تحت یہ علاقے وفاقی اور صوبائی قوانین، بشمول ٹیکس قوانین، سے مستثنیٰ تھے۔ آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد عام ٹیکس قوانین خود بخود ان علاقوں پر لاگو ہو گئے، اگرچہ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے عبوری بنیادوں پر مزید رعایتیں بھی فراہم کیں جہاں تک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا تعلق ہے، تو 2024ء کے آخر میں جب خیبر پی کے میں موجود دو لاکھ سے زائد NCP گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو سمگلنگ، منشیات اور دہشت گردی سے جڑے بااثر گروہ فوراً متحرک ہو گئے۔ ان گروہوں کے مفادات براہِ راست اس غیر قانونی معیشت سے وابستہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سیاسی سرپرستی میں چلنے والے ایک وسیع ‘‘ٹیرر،کرائم، سمگلنگ نیٹ ورک’’ کا حصہ ہیں۔ ایسا نیٹ ورک جو نہ صرف مقامی معیشت کو یرغمال بنائے ہوئے ہے بلکہ ریاستی رٹ کو بھی کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ 24 نومبر 2024ء کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران خیبر پی کے  سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کے انکشافات نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی۔ اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے جواز تراشنا محض لاعلمی نہیں بلکہ ایک خطرناک اور غیر منطقی سیاسی بیانیہ ہے۔ مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ ترجیحات، نااہلی اور غیر قانونی سیاسی مفادات کا ہے اور یہی عناصر خیبر پی  کے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نان کسٹم پیڈ گاڑیوں علاقوں کو ان علاقوں خیبر پی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم