وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اہل وطن کو نئے سال کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اپنے پیغام میں وزیراعلی نے کہا کہ سندھ حکومت نے 2025ء میں کئی اہم سنگِ میل عبور کیے، کراچی پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں پانی کی قلت کو اولین ترجیح بنایا گیا، کراچی کو خوف کے سائے سے نکل کر رنگوں اور خوشیوں کے شہر کے طور پر متعارف کرایا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے نئے سال کے موقع پر پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سال 2026ء ملک کے لیے ترقی، خوشحالی اور نئی کامیابیوں کا پیغام لے کر آئے گا۔ اپنے پیغام میں وزیراعلی نے کہا کہ سال 2025ء میں پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمنوں کے خلاف نمایاں عسکری کامیابی حاصل کی، جس سے عالمی سطح پر ملک کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کا بھرپور اظہار ہوا۔ انہوں نے 2025ء کو دفاعی برتری کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2026ء معاشی میدان میں پیش رفت کا سال ثابت ہوگا۔ صوبے کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے 2025ء میں کئی اہم سنگِ میل عبور کیے، صحت کے شعبے میں عالمی معیار کے طبی مراکز قائم کیے گئے اور دنیا کا سب سے بڑا ہیلتھ نیٹ ورک تشکیل دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 11 لاکھ گھروں کی تعمیر مکمل کی گئی، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے جبکہ 2026ء میں 20 لاکھ گھروں کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے یہ ریکارڈ ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اسکولوں کی تزئین و آرائش اور میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتیوں کے ذریعے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے اقدامات کیے گئے، زراعت کے شعبے میں ہاری کارڈ، سبسڈی پر گندم کی خریداری اور کھاد کی فراہمی جیسے اقدامات کے ذریعے کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ کراچی پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں پانی کی قلت کو اولین ترجیح بنایا گیا، حب کینال کے افتتاح اور کے-فور منصوبے کے لیے مکمل بجٹ کی فراہمی سے حکومت کے عزم کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 39 روزہ عالمی ثقافتی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس نے دنیا کو حیران کر دیا اور کراچی کو خوف کے سائے سے نکل کر رنگوں اور خوشیوں کے شہر کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء کے آخری دن ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز کیا گیا، جبکہ بس ریپڈ ٹرانزٹ یلو، ریڈ اور گرین لائن منصوبے 2026 میں مکمل کیے جائیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو جیسے بڑے منصوبے کراچی کے منظرنامے کو بدل دیں گے اور جاری ترقیاتی عمل کے نتیجے میں شہر کو دنیا کے قابلِ رہائش ترین شہروں کی صف میں شامل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔