شہید قاسم سلیمانی کی کامیابیوں کو سنبھالنا ہماری ذمےداری ہے، الحشد الشعبی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
فاتح کمانڈروں کی برسی کے موقع پر اپنے ایک خطاب میں فالح الفیاض کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی کمر توڑنے میں ان کمانڈروں اور آیت اللہ سیستانی کے فتویٰ نے اہم کردار ادا کیا۔ جس سے عراق میں قیام امن اور فتح کی راہ ہموار ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کی رضاکار دفاعی فورس "الحشد الشعبی" کے سربراہ "فالح الفیاض" نے کہا کہ فاتح کمانڈر کسی ایک مخصوص جغرافیہ تک محدود نہیں، اس لئے اس موقع پر پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے ہر حریت پسند کا فرض ہے کہ وہ ان کی یاد منائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شہدائے مقاومت جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی سالانہ برسی کے موقع پر کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ یہ فاتح کمانڈر، انسانیت اور قانون کی بالادستی کے محافظ تھے۔ ان کی یاد منانا سرحدوں سے بالاتر سیاسی اور نسلی اقدار کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ان کمانڈروں نے فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔ ان کمانڈروں اور آیت اللہ سیستانی کے فتویٰ نے دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس سے عراق میں قیام امن اور فتح کی راہ ہموار ہوئی۔
فالح الفیاض نے وضاحت کی کہ جنگ ہو یا امن، ہم ہر حالت میں ان عظیم شخصیات کا ذکر زندہ رکھیں گے، کیونکہ ان کمانڈروں نے وہ اخلاقی اور قومی ورثہ چھوڑا ہے جو زمان و مکان سے بالاتر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق کے موجودہ سیکورٹی اور سیاسی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس ورثے کی حفاظت کریں۔ ہماری بھی یہ فرض ہے کہ استقامتی محاذ کے ان شہید کمانڈروں کے ہاتھوں حاصل ہونے والی کامیابی کے اثرات کی حفاظت کریں۔ آخر میں الحشد الشعبی کے سربراہ نے مذکورہ شہدائے مقاومت کے ساتھ اپنی رفاقت کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ہیروز کے ساتھ رہنا ہمارے لئے ایک بڑا اعزاز تھا۔ آج بھی ان کی تاریخی ذمے داری کا ایک حصہ ہمارے کندھوں پر ہے۔ یہ ذمے داری اقدار کی پاسداری، قومی وحدت اور سلامتی کے تحفظ پر مشتمل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔
صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔