پاکستان میں براڈبینڈ کنکشنز 15 کروڑ، ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان میں ٹیلی کام شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آرہی ہے اور اب ملک میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ جبکہ براڈبینڈ کنکشنز 15 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، یہ اعداد و شمار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ برائے 2024–25 میں جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹیلی کام کوریج 92 فیصد سے زائد ہو گئی ہے جبکہ براڈبینڈ پینی ٹریشن 60 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ٹیلی کام شعبے کی سالانہ آمدن ایک کھرب روپے سے زائد ہو گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ قومی خزانے میں ٹیلی کام سے شراکت 4 سو 2 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کاری میں بھی 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 8 سو 48 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ’گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ‘ کا پاکستان میں اے آئی ہب قائم کرنے کا فیصلہ
ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں توسیع کے نتیجے میں ڈیٹا کے استعمال کا حجم 27,727 پیٹا بائٹس تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے 95 فیصد سیلولر نیٹ ورکس فورجی ہیں اور بین الاقوامی بینڈوتھ کی دستیابی 17.
ملکی سطح پر موبائل ڈیوائسز کی تیاری میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے، جہاں 95 فیصد سے زائد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں 68 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔ پی ٹی اے نے نیشنل رومنگ کے نفاذ اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے سیٹلائٹ پر مبنی براڈ بینڈ انٹرنیٹ لانچ کردیا
سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستان کی عالمی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے۔ پی ٹی اے نے نیشنل ٹیلی کام سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کے ذریعے سائبر خطرات کا مؤثر تدارک کیا، جس کے نتیجے میں صارفین کی شکایات میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میں ٹیلی کام پاکستان میں تک پہنچ گئی ہے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔