ایک اور سال گزر گیا، محاسبہ و احتساب کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب ابوذر سے فرمایا: "يا أبا ذرٍّ، حاسِبْ نَفْسَكَ قَبلَ أنْ تُحاسَبَ، فإنَّهُ أهْوَنُ لِحِسابِكَ غَداً" [8]، "اے ابوذر، اپنے نفس سے حساب لو، اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے، کیونکہ یہ کام تمہارے کل (قیامت) کے حساب کے لئے زیادہ آسان ہے۔" تاریخ کے جھروکوں میں حضرت ابوذر کے تاریخی کردار کو خلیفہ ثالث کے دور میں دیکھیں تو ان کا احتسابی فکر و عمل اور خلافت کے دفتر سے ہونے والی بدترین کوتاہیوں پر ردعمل کے نتیجہ میں اگرچہ انہیں ذاتی و شخصی طور پر بدترین سختیوں کو جھیلنا پڑا۔ انہیں زبردستی مدینہ سے صحرائے ربذہ میں جلا وطن کیا گیا، مگر انکی نشاندہی، خطرات اور احتجاج و محاسبہ کی تحریک بلا وجہ نہیں تھی۔ ان اعمال کا نتیجہ مستقبل میں خلافت کی بنو امیہ اور یزید پلید تک پہنچ کر نظام خلافت پر کاری ضرب کی صورت میں سامنے آیا۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر
ایک اور سال گزر گیا، ایک اور سال ہم اخروی زندگی کے قریب ہوگئے، یہ سفر کٹ رہا ہے اور ہم مسافروں کی طرح چلے جا رہے ہیں۔ کبھی تھک جاتے ہیں، کبھی سستانے لگتے ہیں، کبھی خوشیوں کا ساماں دیکھتے ہیں، کبھی دکھوں کی مالا جپ لیتے ہیں۔ ہم ان حالات، کیفیات سے اس وقت تک دوچار رہیں گے، جب تک کہ اصل منزل، اصل زندگی کی دہلیز میں داخل نہیں ہو جاتے، البتہ اصل زندگی اور منزل پر جا کر ہمیں اس زندگی، اس وقت کا حسان ضرور دینا ہے۔ ہم سے ہوچھا جائے گا، ہم سے حساب لیا جائے گا۔ ہم وہاں ٹال مٹول نہیں کرسکیں گے۔ ہم وہاں چالاکی نہیں دکھا سکیں گے۔ دھوکہ اور فریب کا دور دورہ ختم ہوچکا ہوگا۔ سستی کاہلی، حقوق العباد اور حقوق اللہ کا حساب بھی لیا جائے گا۔ سال گزر جانے اور نئے سال کے آغاز پر ضروری ہے کہ ہم گزرے حالات کا حساب یہیں کریں، چونکہ یہاں از خود احتساب کرنا آسان ہے، ممکن ہے کہ مشکل دکھائی دیتا ہو، مگر اس احتساب اور حساب کو تصور کریں، جو اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں نے کرنا ہے تو آج کا حساب اور احتساب کچھ بھی نہیں، یہ بہت آسان اور سہل محسوس ہوگا۔
ہم جن کو اپنا پیشوا اور رہبر و رہنا مانتے ہیں، ان کی طرف سے بھی اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ رسول خدا اور ان کے اہلبیت علیھم السلام کی طرف سے محاسبہ و احتساب کی تاکید اور غفلت و کوتاہی سے اجتناب برنے کی واضح رہنمائی موجود ہے۔ اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات میں محاسبہ نفس پر بہت تاکید کی گئی ہے، جس سے اس کی اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "لَيس مِنّا مَن لَم يُحاسِبْ نَفْسَهُ في كُلِّ يَومٍ، فإنْ عَمِلَ خَيرا اسْتَزادَ اللّه َمِنهُ و حَمِدَ اللّه َ علَيهِ، و إنْ عَمِلَ شَيئا شَرّا اسْتَغْفَرَ اللّه َو تابَ إلَيهِ"[1]، "جو شخص روزانہ اپنے نفس کا حساب نہ لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے، پس اگر نیکی کرے تو اللہ سے اس کے بڑھنے کی دعا مانگے اور اس پر اللہ کی حمد کرے اور اگر برائی کرے تو اللہ کی بارگاہ میں استغفار کرے اور توبہ کرے۔"
یہ سال کا اختتام ہے اور نئی سال کا آغاز اس وقت ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیئے، کیا کھویا کیا پایا، کیا یہ گزرا سال اس سے پہلے گزرے تمام برسوں سے بہتر تھا یا جو عہد و پیمان سال کے آغاز میں خود سے کیے تھے، ان پر کس قدر پورے اترے، جو وعدے وعید قوم و ملت کے فرد کے طور پر کیے تھے، وہ کس قدر نبھا سکے۔ جو وعدے اور عہد اہل خانہ، گھر، بچوں سے کیے تھے، ان کو کس حد تک پورا کر پائے اور کون سے معاملات میں اس سال بدترین خرابیاں کیں۔ کہاں سستی اور کوتاہی کے مرتکب ہوئے، کہاں فیصلہ کرتے ہوئے حکمت و دانائی اور دور اندیشی و مصلحت کو پس پشت ڈالا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: "حاسِبوا أنْفُسَكُم قَبلَ أنْ تُحاسَبوا، و زِنوها قَبلَ أنْ تُوزَنوا، و تَجَهَّزوا للعَرْضِ الأكْبَرِ"[5]، "اپنے نفس سے حساب لو، اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے (اعمال) کو تولو، اس سے پہلے کہ تمہارے (اعمال) کو تولا جائے اور تیار ہو جاؤ، بڑے حساب و کتاب (قیامت کے دن) کے لئے۔"
ان فرامین معصومین (ع) کے نتیجہ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نا صرف سال کے اختتام پر بلکہ ہر شب سونے سے پہلے ہمیں اپنی ہر حیثیت، ذاتی، اجتماعی، دینی، قومی، خاندانی، شخصی کا احتساب کرنا چاہیئے، تاکہ ہم محاسبہ کے اس مرحلہ سے بہتر انداز میں نمٹ سکیں، جہاں ہمارا بس نہیں چلے گا۔ نہ لالچ، نہ سفارش، نہ فریب، نہ دھوکہ، نہ چالاکی کام آئے گی، فقط اچھائی، نیکی، بھلائی اور اچھے اعمال و کردار ہی کام آئیں گے۔ ہم چونکہ اجتماعی نظم کے لوگ ہیں، لہذا اجتماعیت کی بات کرتے ہیں، اجتماعی نظم سے گہری وابستگی کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے اپنے نظم میں احتساب و محاسبہ کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔ جو جماعتیں، تنظیمیں اور نظم محاسبہ جیسے نظام میں سستی یا کوتاہی کا شکار ہوتے ہیں، ان کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے، اس لیے کہ محاسبہ کا حکم و تاکید آئمہ طاہرین (ع) نے معاشرہ سازی و خود سازی کیلئے لازمی امر کے طور پر فرمائی ہے۔
اس کوتاہی کا عملی نتیجہ مفاد پرست، موقعہ پرست اور ابن الوقت لوگوں کا اجتماعی نظم و جماعت کے سسٹم میں قوی اور بااختیار ہو جانے کی صورت میں دیکھا جاتا ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب ابوذر سے فرمایا: "يا أبا ذرٍّ، حاسِبْ نَفْسَكَ قَبلَ أنْ تُحاسَبَ، فإنَّهُ أهْوَنُ لِحِسابِكَ غَداً" [8]، "اے ابوذر، اپنے نفس سے حساب لو، اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے، کیونکہ یہ کام تمہارے کل (قیامت) کے حساب کے لئے زیادہ آسان ہے۔" تاریخ کے جھروکوں میں حضرت ابوذر کے تاریخی کردار کو خلیفہ ثالث کے دور میں دیکھیں تو ان کا احتسابی فکر و عمل اور خلافت کے دفتر سے ہونے والی بدترین کوتاہیوں پر ردعمل کے نتیجہ میں اگرچہ انہیں ذاتی و شخصی طور پر بدترین سختیوں کو جھیلنا پڑا۔
انہیں زبردستی مدینہ سے صحرائے ربذہ میں جلا وطن کیا گیا، مگر ان کی نشاندہی، خطرات اور احتجاج و محاسبہ کی تحریک بلا وجہ نہیں تھی۔ ان اعمال کا نتیجہ مستقبل میں خلافت کی بنو امیہ اور یزید پلید تک پہنچ کر نظام خلافت پر کاری ضرب کی صورت میں سامنے آیا۔ لہذا جو لوگ اجتماعی نظم و جماعت و تحریکوں میں محاسبہ و احتساب کو برداشت نہیں کرتے، ان کا رویہ اور نتیجہ ایسے ہی مستقبل کی صورت میں نکلتا ہے۔ پروردگار سے دعا ہے کہ اس گزرے سال کی کوتاہیوں، لغزشوں اور سستیوں کو معاف فرما دے اور اگلے سال میں ہمیں خود سازی و معاشرہ سازی کی جدوجہد میں رہنمائی و نصرت سے نوازے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے حساب لیا جائے اس سے پہلے کہ کی صورت میں اپنے نفس کا حساب
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔