کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
مصنوعی ذہانت (اےآئی) اب ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور ہمارے روزمرہ کے فیصلوں میں بھی شامل ہو چکی ہے مگر کیا یہ واقعی ہماری ریاضی کی الجھنیں حل کر سکتی ہے؟
حالیہ تحقیق کے نتائج سے حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ سب سے جدید AI چیٹ بوٹس بھی ہر چوتھے سوال میں غلطی کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔ اس مطالعے نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کون سا AI ماڈل واقعی حساب کتاب میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور کہاں یہ ہمارے اعتماد کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
محققین نے ایک حیران کن مطالعہ کیا تاکہ پانچ AI ماڈلز کی درستگی کا تجزیہ کیا جا سکے، جس میں 500 روزمرہ کے ریاضی کے سوالات شامل تھے۔ دلچسپ نتائج سے ظاہر ہوا کہ کسی بھی AI کے غلط جواب دینے کا امکان تقریباً 40 فیصد ہے۔
Omni Research on Calculation in AI (ORCA) سے معلوم ہوا کہ جب آپ AI چیٹ بوٹ سے روزمرہ کی ریاضی کرنے کے لیے پوچھتے ہیں، تو درستگی مختلف کمپنیوں اور مختلف قسم کے ریاضیاتی کاموں میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی جنگ: جیمنی کی مقبولیت میں اضافہ، چیٹ جی پی ٹی پیچھے، وجہ کیا ہے؟
تحقیق میں 4 معروف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا جن میں جیمنی (گوگل)، چیٹ جی پی ٹی (اوپن اے آئی)، ڈیپ سیک اور گروک شامل ہیں۔ نتائج کے مطابق کسی بھی ماڈل نے 63 فیصد سے زیادہ درستگی حاصل نہیں کی۔ سب سے بہتر جیمینی رہا جس نے 63 فیصد درست جوابات دیے جبکہ گروک 62.
ریاضی اور تبادلوں کے شعبے میں اے آئی کی کارکردگی سب سے زیادہ رہی، جہاں جیمینی نے 83 فیصد درستگی کے ساتھ سبقت لی، گروک 76.9 فیصد، فیصد، ڈیپ سیک 74.1 اور چیٹ جی پی ٹی 66.7 فیصد درست جواب دینے میں کامیاب رہا۔
یہ بھی پڑھیں: اصلی اور اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں فرق کس طرح کیا جائے، جانیے اہم طریقے
ماہرین کے مطابق اے آئی کی غلطیوں کی چار اہم اقسام ہیں جن میں کمپیوٹیشن کی غلطیاں، خراب منطقی فیصلے، ہدایات کی غلط تشریح اور سوال سے انکار شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی چیٹ جی پی ٹی ڈیپ سیک گروک گوگل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی ڈیپ سیک گروک گوگل چیٹ جی پی ٹی سے زیادہ ڈیپ سیک اے ا ئی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔