وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، موٹروہیکل آرڈیننس میں ترمیم کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ویب ڈیسک:سندھ کابینہ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے صوبے میں تھرڈ پارٹی انشورنس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے انشورنس پر سیلز ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
کابینہ نے تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری دی۔
فیصلے کے مطابق انشورنس پر سیلز ٹیکس کو 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا، جبکہ سڑک حادثات میں متاثرہ فریق کو معاوضے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انشورنس کلیمز کے لیے 24 گھنٹے کی ہیلپ لائن قائم کی جائے، تاکہ شہریوں کو فوری رہنمائی اور سہولت میسر ہو۔
اجلاس میں بین الصوبائی اور وفاقی امور میں رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سی سی آئی سے متعلق امور آئی پی سی ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی اور ٹنڈو محمد خان میں دانش اسکول کے لیے زمین الاٹ کرنے کی بھی منظوری دی۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای ٹرانسفر آف ٹائٹل سسٹم نافذ ہوجائے گا، جس سے زمینوں کے معاملات میں شفافیت اور سہولت بڑھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کابینہ نے کی منظوری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔