برطانیہ میں شدید سردی کی لہر، ملک بھر میں ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: شدید سردی کی لہر کے پیش نظر پورے انگلینڈ میں ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
ہیلتھ الرٹس میں صحت کے شعبے کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فلو کے مریضوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم این ایچ ایس اب بھی ’خطرے سے باہر نہیں‘ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 21 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں روزانہ اوسطاً 3 ہزار 61 فلو کے مریض اسپتالوں میں داخل رہے، جو اس سے ایک ہفتہ قبل 3 ہزار 140 تھے۔اس کے باوجود این ایچ ایس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اسپتال بدستور ’ناقابلِ یقین دباؤ‘ میں ہیں اور ملک بھر میں تقریباً 95 فیصد اسپتال بیڈز پہلے ہی بھر چکے ہیں۔
برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے تمام علاقوں کے لیے ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری کیے ہیں، جو بدھ کی شام 8 بجے سے لے کر آئندہ منگل کی صبح 10 بجے تک نافذ رہیں گے۔اس سے قبل صرف شمال مشرقی اور شمال مغربی انگلینڈ میں ایمبر الرٹس نافذ تھے جبکہ دیگر علاقوں میں یلو الرٹس جاری تھے۔
یوکے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے ہیلتھ پروٹیکشن کنسلٹنٹ ڈاکٹر پال کولمین نے کہاکہ آئندہ چند دنوں میں پورے انگلینڈ میں شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔ان کے مطابق کم درجہ حرارت خاص طور پر بزرگ افراد اور سنگین بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر کولمین نے خبردار کیا کہ شدید سردی کے باعث دل کے دورے، فالج اور سینے کے انفیکشنز کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عوام سرد موسم کے دوران اپنے کمزور اور بزرگ رشتہ داروں، دوستوں اور ہمسایوں کا خاص خیال رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلتھ الرٹس الرٹس جاری
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔