ایک سال گزرنے کے باوجود پولیس فرح گلزار کو تلاش کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) پورا سال گزر گیا لیکن فرح گلزار کو پولیس نہ تلاش کر سکی سندھ اسمبلی میں آواز اُٹھانا مظاہرے کرنا سب بیکار ثابت ہوا والدین آج بھی دروازہ کھولے اپنے بیٹے کی آمد کے منتظر ہیںتفصیلات کے مطابق 2025 ٹنڈوجام میں کچھ لوگوں کے لیے بہت اذیت ناک ثابت ہوا اس سال سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی گلزار راجپوت کے اکلوتے بیٹے فرخ گلزار انیس مارچ کو گھر سے اس طرح گئے کہ ابھی تک دوربا رہ لوٹ کر نہیں آئے ان کے والدین نے حکومت کا ہر دروازے پر دستک دی اسمبلی میں ایم پی اے صابر قائم خانی نے آواز اُٹھائی حیدرآباد ٹنڈوجام کراچی میں میں ان کی بازیابی کے لیے مظاہرے کیے کیا نتائج صفر نکلا سپریم کورٹ تک درخواست بھیجی فوجی ادارے سے بھی مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے کوئی مدد نہیںکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔