Express News:
2026-06-02@23:49:55 GMT

امریکی صدر کی دھمکی

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر جوہری تعمیرات جاری رکھی گئیں تو ایران پر قیامت برپا کردیں گے، حماس نے غیر مسلح ہونے سے انکارکیا تو اسے قیمت چکانا ہوگی، غزہ سے اسرائیلی انخلا کا الگ معاملہ ہے، اس پر ہم بات کریں گے، پیوتن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کا سن کر بہت برا لگا۔

ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو گرد و غبار چھایا ہوا ہے، وہ محض وقتی بیانات یا انتخابی نعروں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس گہرے بحران کی علامت ہے جس سے موجودہ عالمی نظام گزر رہا ہے۔

فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا دنیا واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے یا پھر ہم اب بھی طاقت، دھمکی اور خوف کی اسی فرسودہ سیاست میں الجھے ہوئے ہیں جس نے پچھلی صدی کو جنگوں، تباہی اور عدم استحکام سے بھر دیا تھا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت ترین الفاظ، حماس کو غیر مسلح ہونے کی وارننگ، غزہ سے اسرائیلی انخلا کو ایک الگ خانہ بنا کر رکھ دینا اور یوکرین کا پیوتن کی رہائش گاہ پر حملے پر افسوس، یہ سب بیانات مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں تضاد، دوغلا پن اور طاقت کا غرور نمایاں نظر آتا ہے۔

ایران کا جوہری مسئلہ دراصل صرف ایران کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان، خطے میں بالادستی کی کشمکش اور عالمی قوانین کی ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔

ایک طرف ایران پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، دوسری طرف یہ سوال مسلسل اٹھتا ہے کہ اگر واقعی عالمی نظام ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے تو پھر اسرائیل جیسے ممالک کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟

یہ دہرا معیار ہی وہ بنیادی سبب ہے جو ایران جیسے ممالک کو دفاعی سوچ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب ایک ریاست یہ دیکھتی ہے کہ عالمی طاقتیں اصولوں کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کر رہی ہیں تو اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ اپنے تحفظ کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے لگتی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے ’’ قیامت برپا کرنے‘‘ جیسی دھمکی محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں تلاش کیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایران جیسے ملک کو دھمکیاں دے کر واقعی پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟

ایران کی تاریخ، اس کی قومی شناخت اور اس کے عوام کے مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ دباؤ اور جارحانہ زبان اکثر وہاں الٹا اثر ڈالتی ہے۔

ماضی میں بھی سخت پابندیوں اور تنہائی نے ایران کو مکمل طور پر جھکانے کے بجائے اسے خود کفالت، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی سیاست کی طرف دھکیلا ہے۔ اس لیے یہ اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ ایک بار پھر دھمکیوں کی سیاست کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

اسی طرح غزہ اور حماس کا معاملہ محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ غزہ دنیا کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں ایک پوری آبادی طویل محاصرے، معاشی گھٹن اور مسلسل خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

ایسے حالات میں حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کرنا اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے کہ طاقت کا توازن یکسر یک طرفہ ہے۔

جب ایک فریق کے پاس جدید ترین اسلحہ، عالمی حمایت اور سفارتی تحفظ ہو اور دوسرا فریق بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو، تو ایسے میں غیر مسلح ہونے کی شرط انصاف کے بجائے جبر کا تاثر دیتی ہے۔

غزہ سے اسرائیلی انخلا کو الگ مسئلہ قرار دینا بھی دراصل مسئلے کی جڑ سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ فلسطین کا سوال دہائیوں سے عالمی سیاست کا ضمیر جھنجھوڑ رہا ہے، مگر ہر بار اسے ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھا جاتا ہے۔

کبھی سیکیورٹی، کبھی دہشت گردی، کبھی انسانی امداد، لیکن مجموعی تصویر کو دیکھنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کو ایک واضح، قابلِ عمل اور باوقار سیاسی حل فراہم نہیں کیا جاتا، اس خطے میں کسی بھی قسم کے امن کی بات محض خوش فہمی رہے گی۔

اسرائیلی انخلا، فلسطینی ریاست کا قیام، یروشلم کی حیثیت اور مہاجرین کا مسئلہ۔ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سوالات ہیں جنھیں الگ الگ خانوں میں بانٹ کر حل نہیں کیا جا سکتا۔

اس تناظر میں امریکا کا کردار سب سے زیادہ متنازع بھی ہے اور فیصلہ کن بھی۔ واشنگٹن ایک طرف خود کو عالمی امن اور جمہوریت کا علمبردار قرار دیتا ہے، دوسری طرف اس کی پالیسیاں اکثر مخصوص اتحادیوں کے مفادات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔

اسرائیل کو غیر مشروط حمایت، چاہے وہ کسی بھی پالیسی پر عمل پیرا ہو، اس بات کا ثبوت ہے کہ اصولوں کے مقابلے میں مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس رویے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ دنیا بھر میں یہ تاثر بھی مضبوط کیا ہے کہ عالمی نظام انصاف کے بجائے طاقت کے بل پر چل رہا ہے۔

یوکرین کی جنگ اس وسیع تر بحران کا ایک اور رخ ہے۔ پیوتن کی رہائش گاہ پر حملے کی خبر پر افسوس کا اظہار انسانی سطح پر ایک فطری ردِ عمل ہو سکتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ جنگ کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی جغرافیائی سیاست، نیٹو کی توسیع، روس کے سیکیورٹی خدشات اور مغربی دنیا کی حکمتِ عملی کا مجموعہ ہے۔

یوکرین اس جنگ میں محض ایک میدان بن چکا ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی بساط بچھا رہی ہیں۔ اس تصادم میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو رہا ہے، جن کے لیے نہ جغرافیائی سیاست معنی رکھتی ہے اور نہ ہی عالمی طاقتوں کے بیانات۔

یہ جنگ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سرد جنگ کے بعد جس ’’ نئے عالمی نظم‘‘ کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ اب شدید دباؤ میں ہے۔ کثیر القطبی دنیا کے ابھرتے ہوئے خد و خال، چین کا بڑھتا ہوا اثر، روس کی مزاحمت، یورپ کی بے چینی اور امریکا کی بالادستی برقرار رکھنے کی کوششیں، یہ سب مل کر ایک غیر یقینی فضا پیدا کر رہی ہیں۔

ایسے ماحول میں سخت بیانات اور دھمکیاں مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیتی ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ خود امریکا کے اندرونی سیاسی حالات ان بیانات پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔

امریکی سیاست میں داخلی دباؤ، انتخابی ماحول اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کی روایت نئی نہیں۔ سخت بیانات اکثر داخلی حمایت سمیٹنے کا ذریعہ بنتے ہیں، مگر ان کے عالمی اثرات کہیں زیادہ گہرے اور خطرناک ہوتے ہیں۔ جب عالمی طاقتوں کے رہنما داخلی سیاست کے فائدے کے لیے بین الاقوامی تعلقات کو داؤ پر لگاتے ہیں تو اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا کردار بھی اس سارے منظر نامے میں سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جب طاقتور ممالک ان اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور جہاں چاہیں انھیں نظرانداز کر دیتے ہیں تو پھر عالمی قوانین کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔

ایران، فلسطین اور یوکرین کے معاملات میں اقوام متحدہ کی بے بسی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔ان تمام حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرے۔

دنیا کو ایک اور جنگ، ایک اور محاذ آرائی یا ایک اور انسانی المیے کی ضرورت نہیں۔ جوہری ہتھیاروں کے سائے میں دی جانے والی دھمکیاں، محصور آبادیوں پر دباؤ اور پراکسی جنگوں کی حوصلہ افزائی انسانیت کے اجتماعی مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے، اگر واقعی امن مقصود ہے تو اس کا راستہ مذاکرات، باہمی احترام اور انصاف سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے۔

 میڈیا اور عوامی رائے کی ذمے داری بھی یہاں دو چند ہو جاتی ہے۔ ہمیں صرف طاقتور آوازوں کو دہرانے کے بجائے ان آوازوں کو بھی سننا ہوگا جو جنگ کی قیمت چکا رہی ہیں۔ فلسطینی بچے، یوکرینی شہری، ایرانی عوام اور دنیا بھر کے وہ لوگ جو ان فیصلوں کا براہِ راست حصہ نہیں مگر ان کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں، یہ سب عالمی ضمیر کا امتحان ہیں۔

آخرکار یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم کس دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں مسائل کا حل بموں، پابندیوں اور دھمکیوں میں تلاش کیا جائے، یا ایک ایسی دنیا جہاں اختلافات کو بات چیت، قانون اور انصاف کے ذریعے سلجھایا جائے۔

تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے عارضی برتری تو دے سکتے ہیں، مگر وہ پائیدار امن نہیں لا سکتے۔ اگر عالمی قیادت نے اس سبق کو ایک بار پھر نظرانداز کیا تو یہ اندیشہ بے جا نہیں کہ آنے والے دنوں میں قیامت کا استعارہ محض الفاظ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا ایک اور بڑے بحران کی دہلیز پر کھڑی نظر آئے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی انخلا غیر مسلح ہونے ایک بار پھر امریکی صدر عالمی نظام نہیں بلکہ کے بجائے کیا جاتا جاتا ہے ایک اور رہی ہیں یہ سوال طاقت کے رہا ہے کیا جا کو ایک

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار