دنیا بھر میں ’’کوئین بی‘‘ کے نام سے پہچانی جانے والی امریکی پاپ گلوکارہ بیونسے نے اپنے کیریئر میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ باضابطہ طور پر ارب پتی شخصیات کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں۔

معروف بزنس میگزین فوربز نے بیونسے نولز کارٹر کو دنیا کی امیر ترین گلوکاروں میں شمار کرتے ہوئے اس اعزاز کی تصدیق کی ہے۔

فوربز کے مطابق بیونسے اس فہرست میں شامل ہونے والی پانچویں گلوکارہ ہیں، جہاں ان سے قبل بروس اسپرنگزٹین، ریحانہ، ٹیلر سوئفٹ اور جے زیڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ نام موجود ہیں۔ اس فہرست میں شمولیت بیونسے کے طویل، متنوع اور مسلسل کامیاب کیریئر کا اعتراف سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 44 سالہ بیونسے نے 2025 میں اپنی کاؤ بوائے کارٹر ٹور کامیابی سے مکمل کی، جس نے 407 ملین ڈالر سے زائد کی خطیر کمائی کی۔ یہ ٹور ان کے 2024 میں ریلیز ہونے والے میگا ہٹ اسٹوڈیو البم ’’کاؤ بوائے کارٹر‘‘ کے بعد شروع کیا گیا تھا، جسے عالمی سطح پر شاندار پذیرائی حاصل ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران بیونسے کی مجموعی دولت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی، جس میں کنسرٹ ٹورز، میوزک کیٹلاگ کی رائلٹیز اور مختلف اشتہاری معاہدوں سے حاصل ہونے والی 148 ملین ڈالر سے زائد آمدن نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے بعد بیونسے نہ صرف موسیقی بلکہ کاروباری دنیا میں بھی اپنی مضبوط حیثیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فہرست میں

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ