سال 2025: پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری، جی ڈی پی میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزارت خزانہ نے سال 2025 کے دوران قومی معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلات میں بتایا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث اہم معاشی اشاریے استحکام اور بحالی کی عکاسی کر رہے ہیں اور رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 3.
71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کے باعث رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسرا سرپلس ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال24-2023 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی۔
اسی طرح قرضوں میں بھی کمی دیکھی گئی اور مالی سال 25-2024 میں قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد رہا جو مالی سال 23-2022 میں 75 فیصد تھا۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ قرضوں کی اوسط مدت 4.5 سال تک بڑھ گئی جبکہ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی کے نتیجے میں تقریباً 3.5 کھرب روپے یا 12.4 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی۔
اسی دوران پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کر کے اسے جون 2024 کے 22 فیصد سے کم کر 10.5 فیصد کر دیا گیا اور معاشی استحکام کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر بھی مضبوط ہوئے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے لیے کور بہتر ہو کر 2.6 ماہ تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.7 ماہ تھا، ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور مالی سال 2025 میں یہ 38 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ہے جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ، اسٹاک مارکیٹ
بتایا گیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتری کی جانب گامزن رہا اور مالی سال 25-2024 میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف میں رہنے کا امکان ہے اور ابتدائی پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔
نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مالی سال 25-2024 میں یہ 1.1 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس میں ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کا نمایاں حصہ رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی شان دار کارکردگی دکھائی اور 2025 میں ڈالر کے حساب سے 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کر کے عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ
رواں مالی سال میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں 4 لاکھ 50 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ مالی سال 25-2024 میں 9 آئی پی اوز متعارف کروائے گئے اور 26-2025 میں مزید 16 آئی پی اوز متوقع ہیں۔
وزارت خزانہ کی دسمبر کی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے۔
وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاروباری اور عوامی اعتماد میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، صارفین کا اعتماد 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے لیے معاشی امکانات کو کئی برسوں میں سب سے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق بڑے کاروباری رہنماؤں میں معاشی ترقی کے حوالے سے امید 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک پرکشش منزل سمجھا جا رہا ہے۔
رواں برس فن ٹیک اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی، پالیسی سپورٹ اور بڑھتی سرمایہ کاری نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صنعتی گروتھ سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل مثبت نظر آرہا ہے، ٹیکسٹائل، گاڑیوں، سیمنٹ اور فوڈ پروسسنگ کی صنعتوں میں بہتری ہوئی اور مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام مضبوط ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزارت خزانہ کے مطابق اور مالی سال 25 2024 میں ریکارڈ کیا گیا رواں مالی سال بتایا گیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے فیصد اضافہ میں نمایاں ارب ڈالر پہنچ گیا جی ڈی پی تک پہنچ میں بھی ہے جبکہ میں یہ
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔