نیا ناظم آباد: سیکورٹی گارڈ ڈیوٹی کے مقام سے مردہ حالت میں ملا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں منگل کے روز مختلف علاقوں سے موصول ہونے والے افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعات نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ شہر کے مختلف علاقوں سے 6افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں‘ دو افراد ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق منگھو پیر کے علاقے نیا ناظم آباد بلاک ایم میں ایک محنتی اور شریف سیکورٹی گارڈ خان افضل اپنی ڈیوٹی کے مقام پر مردہ حالت میں پایا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خان افضل کئی دنوں سے یہ شکایت کر رہا تھا کہ اسے کچھ افراد تنگ کر رہے ہیں۔ خان افضل کی وفات سے محلے کے لوگ اور ساتھی گارڈز صدمے میں ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں موت کی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم کے بعد کیا جائے گا۔ ادھر نمائش شمس ایونیو اپارٹمنٹ کے قریب سے 55 سالہ غلام مصطفی ولد محمد حسن کی لاش برآمد ہوئی۔ جناح ہسپتال کے قریب نجم الدین آڈیٹوریم کے پارک سے 60 سالہ نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی لاش برا مد ہوئی کے قریب
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔