2025ء میں دل دہلا دینے والے واقعات ، شہری زندگی پر گہرے نقوش ، اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سال 2025ء پاکستان اور دنیا بھر کے لیے غیرمعمولی طور پر مشکل ثابت ہوا۔ اس دوران کراچی سمیت مختلف شہروں میں متعدد افسوسناک، دل دہلا دینے اور جان لیوا حادثات رونما ہوئے جنہوں نے ناصرف متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں کو اجاڑ دیا بلکہ شہریوں کے ذہنوں پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ 8 جولائی 2025ء کو کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 میں 42 سالہ اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی لاش ان کے کرایے کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ یہ واقعہ شہر کے شوبز اور فیشن حلقوں میں صدمے کا باعث بنا۔ سال 2025ء کے سب سے زیادہ جان لیوا سانحات میں سے ایک 4 جولائی کو لیاری میں پیش آیا، جب 5 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی۔ اس حادثے میں 16 مرد، 9 خواتین اور 2 بچوں نے جان گنوائی۔ مرنے والوں میں سے زیادہ تر افراد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ رہائشی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد 27 انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال آج تک زیر بحث ہے۔ 7 جنوری 2025ء کو سات سالہ بچہ صارم اپنے نارتھ کراچی کے گھر سے لاپتا ہوا۔ گیارہ دن کی تلاش کے بعد 18 جنوری کو اس کی لاش قریبی پانی کے ٹینک سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک دل دہلا دینے والا انکشاف تھا جس نے بچے کے کیس کو قومی سانحہ میں بدل دیا۔ کورنگی، مہران ٹاؤن سیکٹر 6میں 8 سالہ بچہ دلبر علی دو دن قبل مین ہول میں گر کر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور بچے کی فوری ہسپتال منتقلی کے باوجود جان بچائی نہ جا سکی۔ اس سال شہر میں سڑکوں پر غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، ٹریفک حادثات اور عوامی مقامات پر ہوائی فائرنگ کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت شہری زخمی ہوئے۔ سال نو کی رات، شہر کے مختلف علاقوں میں ون ویلنگ اور ہلڑ بازی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے جس نے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔سال 2025ء کے یہ واقعات شہر قائد میں شہری زندگی کے لیے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق رواں برس ناصرف سینکڑوں مقدمات درج کیے گئے بلکہ اشتہاری اور مفرور ملزمان سمیت سنگین جرائم، بھتا خوری، منشیات فروشی اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث بڑی تعداد میں عناصر کو گرفتار یا قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا گیا۔ کراچی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی میں مزاحمت پر ہلاکتوں کے واقعات میں 26 فیصد جبکہ زخمی ہونے کے واقعات میں 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 12 فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 19 فیصد اور گاڑیاں چوری ہونے کے واقعات میں 8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران ہلاکت کے 73 مقدمات میں سے 77 فیصد ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا جن میں 17 راہزن پولیس مقابلوں میں ہلاک جبکہ 76 گرفتار ہوئے۔ اسی طرح ڈکیتی میں مزاحمت پر زخمی ہونے کے 299 مقدمات میں سے 65 فیصد کے ملزمان کو ٹریس کیا گیا جن میں 7 راہزن ہلاک اور 269 گرفتار کیے گئے۔ شاہراہِ عام پر راہزنی کے 56 فیصد، گھروں کی ڈکیتی کے 77 فیصد اور دیگر ڈکیتیوں کے 68 فیصد مقدمات میں ملوث ملزمان گرفتار کیے گئے۔ مجموعی طور پر راہزنی کے مقدمات میں 3764 ملزمان گرفتار جبکہ 91 پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ انسدادِ جرائم کی کارروائیوں کے دوران 1013 مواقع پر راہزنوں اور پولیس کا آمنا سامنا ہوا جس کے نتیجے میں 124 راہزن ہلاک، 1051 زخمی حالت میں گرفتار جبکہ 4251 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائیوں میں رواں سال اب تک 5754 ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں 22 ایس ایم جیز، 5592 پستول و ماؤزر، 106 رائفلیں، 34 شارٹ گنز اور 34 ہینڈ گرنیڈ شامل ہیں۔ منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن میں اے کیٹیگری کے 353 منشیات فروشوں سمیت مجموعی طور پر 4945 افراد گرفتار کیے گئے جن کے قبضے سے 27 کلو ہیروئن، 3122 کلو چرس، 133 کلو آئس، 31 کلو کرسٹل اور 20 کلو افیون برآمد کی گئی۔ اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (SIU) نے سال کے دوران بھتا خوری کے خلاف کارروائیوں میں 6 بھتا خور ہلاک، 16 زخمی حالت میں گرفتار کیے جبکہ مجموعی طور پر 94 بھتا خور گرفتار ہوئے۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (AVCC) نے 60 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں اغوا برائے تاوان کے 56 ملزمان شامل ہیں۔ پولیس نے 45 مغویوں کو بازیاب کرایا جبکہ مقابلوں میں 2 اغوا کار ہلاک ہوئے۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (AVLC) نے 318 کار لفٹرز اور 2465 موٹر سائیکل لفٹرز کو گرفتار کیا۔ دورانِ مقابلہ 8 کار لفٹر ہلاک اور 31 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔ ٹریفک پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2025ء میںای چالان سسٹم، سیف سٹی کیمرے، انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اور جدید کنٹرول رومز کے ذریعے ٹریفک قوانین کے نفاذ اور روانی میں بہتری لائی گئی۔ آن لائن خدمات، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی میں اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں کمی اور شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ کراچی پولیس نے سال بھر نیوی امن ایکسرسائز، صنعتی و تجارتی نمائشوں، اردو ادب کانفرنس، بین الاقوامی کرکٹ میچز، پی ایس ایل و دیگر سیریز، انٹرنیشنل کلچر فیسٹیول، ضمنی انتخابات اور بڑے مذہبی اجتماعات کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے پُرامن انعقاد کو یقینی بنایا۔ جدید پولیسنگ کے فروغ کے لیے ماڈل پولیس اسٹیشنز، مددگار 15 ایپ، جدید پیٹرولنگ گاڑیاں، سینٹرلائزڈ انویسٹیگیشن سیلز، کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز، ٹریکس، ای چالان اور سیف سٹی منصوبے متعارف اور فعال کیے گئے۔ اس کے علاوہ پولیس ملازمین کی فلاح کے لیے گارڈن ہیڈ کوارٹر میں رہائشی منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا۔ کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور شہر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے یہ اقدامات آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے واقعات میں مقدمات میں گرفتار کیے شہریوں کے کے مطابق ہونے کے سال 2025ء کیے گئے کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔