data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سال 2025ء پاکستان اور دنیا بھر کے لیے غیرمعمولی طور پر مشکل ثابت ہوا۔ اس دوران کراچی سمیت مختلف شہروں میں متعدد افسوسناک، دل دہلا دینے اور جان لیوا حادثات رونما ہوئے جنہوں نے ناصرف متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں کو اجاڑ دیا بلکہ شہریوں کے ذہنوں پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ 8 جولائی 2025ء کو کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 میں 42 سالہ اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی لاش ان کے کرایے کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ یہ واقعہ شہر کے شوبز اور فیشن حلقوں میں صدمے کا باعث بنا۔ سال 2025ء کے سب سے زیادہ جان لیوا سانحات میں سے ایک 4 جولائی کو لیاری میں پیش آیا، جب 5 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی۔ اس حادثے میں 16 مرد، 9 خواتین اور 2 بچوں نے جان گنوائی۔ مرنے والوں میں سے زیادہ تر افراد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ رہائشی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد 27 انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال آج تک زیر بحث ہے۔ 7 جنوری 2025ء کو سات سالہ بچہ صارم اپنے نارتھ کراچی کے گھر سے لاپتا ہوا۔ گیارہ دن کی تلاش کے بعد 18 جنوری کو اس کی لاش قریبی پانی کے ٹینک سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک دل دہلا دینے والا انکشاف تھا جس نے بچے کے کیس کو قومی سانحہ میں بدل دیا۔ کورنگی، مہران ٹاؤن سیکٹر 6میں 8 سالہ بچہ دلبر علی دو دن قبل مین ہول میں گر کر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور بچے کی فوری ہسپتال منتقلی کے باوجود جان بچائی نہ جا سکی۔ اس سال شہر میں سڑکوں پر غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، ٹریفک حادثات اور عوامی مقامات پر ہوائی فائرنگ کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت شہری زخمی ہوئے۔ سال نو کی رات، شہر کے مختلف علاقوں میں ون ویلنگ اور ہلڑ بازی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے جس نے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔سال 2025ء کے یہ واقعات شہر قائد میں شہری زندگی کے لیے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق رواں برس ناصرف سینکڑوں مقدمات درج کیے گئے بلکہ اشتہاری اور مفرور ملزمان سمیت سنگین جرائم، بھتا خوری، منشیات فروشی اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث بڑی تعداد میں عناصر کو گرفتار یا قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا گیا۔ کراچی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی میں مزاحمت پر ہلاکتوں کے واقعات میں 26 فیصد جبکہ زخمی ہونے کے واقعات میں 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 12 فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 19 فیصد اور گاڑیاں چوری ہونے کے واقعات میں 8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران ہلاکت کے 73 مقدمات میں سے 77 فیصد ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا جن میں 17 راہزن پولیس مقابلوں میں ہلاک جبکہ 76 گرفتار ہوئے۔ اسی طرح ڈکیتی میں مزاحمت پر زخمی ہونے کے 299 مقدمات میں سے 65 فیصد کے ملزمان کو ٹریس کیا گیا جن میں 7 راہزن ہلاک اور 269 گرفتار کیے گئے۔ شاہراہِ عام پر راہزنی کے 56 فیصد، گھروں کی ڈکیتی کے 77 فیصد اور دیگر ڈکیتیوں کے 68 فیصد مقدمات میں ملوث ملزمان گرفتار کیے گئے۔ مجموعی طور پر راہزنی کے مقدمات میں 3764 ملزمان گرفتار جبکہ 91 پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ انسدادِ جرائم کی کارروائیوں کے دوران 1013 مواقع پر راہزنوں اور پولیس کا آمنا سامنا ہوا جس کے نتیجے میں 124 راہزن ہلاک، 1051 زخمی حالت میں گرفتار جبکہ 4251 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائیوں میں رواں سال اب تک 5754 ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں 22 ایس ایم جیز، 5592 پستول و ماؤزر، 106 رائفلیں، 34 شارٹ گنز اور 34 ہینڈ گرنیڈ شامل ہیں۔ منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن میں اے کیٹیگری کے 353 منشیات فروشوں سمیت مجموعی طور پر 4945 افراد گرفتار کیے گئے جن کے قبضے سے 27 کلو ہیروئن، 3122 کلو چرس، 133 کلو آئس، 31 کلو کرسٹل اور 20 کلو افیون برآمد کی گئی۔ اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (SIU) نے سال کے دوران بھتا خوری کے خلاف کارروائیوں میں 6 بھتا خور ہلاک، 16 زخمی حالت میں گرفتار کیے جبکہ مجموعی طور پر 94 بھتا خور گرفتار ہوئے۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (AVCC) نے 60 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں اغوا برائے تاوان کے 56 ملزمان شامل ہیں۔ پولیس نے 45 مغویوں کو بازیاب کرایا جبکہ مقابلوں میں 2 اغوا کار ہلاک ہوئے۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (AVLC) نے 318 کار لفٹرز اور 2465 موٹر سائیکل لفٹرز کو گرفتار کیا۔ دورانِ مقابلہ 8 کار لفٹر ہلاک اور 31 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔ ٹریفک پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2025ء میںای چالان سسٹم، سیف سٹی کیمرے، انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اور جدید کنٹرول رومز کے ذریعے ٹریفک قوانین کے نفاذ اور روانی میں بہتری لائی گئی۔ آن لائن خدمات، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی میں اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں کمی اور شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ کراچی پولیس نے سال بھر نیوی امن ایکسرسائز، صنعتی و تجارتی نمائشوں، اردو ادب کانفرنس، بین الاقوامی کرکٹ میچز، پی ایس ایل و دیگر سیریز، انٹرنیشنل کلچر فیسٹیول، ضمنی انتخابات اور بڑے مذہبی اجتماعات کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے پُرامن انعقاد کو یقینی بنایا۔ جدید پولیسنگ کے فروغ کے لیے ماڈل پولیس اسٹیشنز، مددگار 15 ایپ، جدید پیٹرولنگ گاڑیاں، سینٹرلائزڈ انویسٹیگیشن سیلز، کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز، ٹریکس، ای چالان اور سیف سٹی منصوبے متعارف اور فعال کیے گئے۔ اس کے علاوہ پولیس ملازمین کی فلاح کے لیے گارڈن ہیڈ کوارٹر میں رہائشی منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا۔ کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور شہر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے یہ اقدامات آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے واقعات میں مقدمات میں گرفتار کیے شہریوں کے کے مطابق ہونے کے سال 2025ء کیے گئے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار