data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، سابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے سال 2025 کے اختتام پرملکی معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان نے میکرواکنامک استحکام میں نمایاں پیش رفت کی، اسٹاک مارکیٹ انڈیکس اس سال ایک لاکھ 15 ہزار سے ایک لاکھ 74 ہزار تک پہنچ گیا جس میں ریکارڈ 52 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بلند پیداواری لاگت، ایکسپورٹس میں جمود اور سیکورٹی خدشات بدستوربڑے چیلنج بنے رہے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر معمولی دباؤکے باوجود مالی سال 26۔2025 کے لیے 14 کھرب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کی سمت پیش رفت دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت مانیٹری پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی جوگزشتہ برسوں میں 38 فیصد تک جا پہنچی تھی، کم ہوکر2025 کے اختتام پر6.

1 فیصد کی سطح تک آگئی ہے مگر 10.5 فیصد پالیسی ریٹ کو سات فیصد پر لانا بدستور ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے خبردارکیا کہ صنعتی صارفین کے لیے 35 روپے فی یونٹ سے زائد بجلی نرخ اور بینک مارک اپ خطے میں کاروباری لاگت کو سب سے زیادہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جس میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل (SIFC) کی بہترین کوششوں کے باوجود دوسرے عوامل کے سبب بہتری نہیں ہو سکی، اور سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 1 ارب ڈالر سے تجاوز نہیں کر سکا۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جنہیں آئی ایم ایف کی بروقت قسطوں اوردوست ممالک کے رول اوور نے سہارا دیا۔ نجکاری کے حوالے سے میاں زاہد حسین نے کہا کہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری میں تاخیرتشویش ناک ہے، البتہ پرائیویٹائزیشن کمیشن کی جانب سے ناکام سرکاری اداروں کی پرائیویٹائزیشن کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شارٹ لسٹنگ نجکاری کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے معاشی بہتری کے باوجود سماجی مسائل پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ غربت کی شرح تقریباً 44 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری 7.1 فیصد کے لگ بھگ ہے، اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 3 سے 3.6 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں غربت اور بیروزگاری بدستور موجود رہے گی۔ تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زرایک روشن پہلوثابت ہوئیں ہیں، جن میں مالی سال کے اختتام تک 38 ارب ڈالر یعنی 11 ہزار ارب روپے سے تجاوزکرنے کا امکان ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے گا اور غربت میں کمی ہوگی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ مختصر جنگ میں پاکستان کی تاریخی فتح نے پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند کیا اور جنگ کے دوران ہر دل عزیز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مؤثر فوجی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر بہت اہمیت حاصل کی، تاہم ملک میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے اور سرحدی تناؤنے سرمایہ کاروں کے اعتماد کومتاثرکیا ہے۔ انہوں نے زوردیا کہ معاشی خوشحالی کا دارومدارداخلی سلامتی اور علاقائی امن پرہے۔2026 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میاں زاہد حسین نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کی تکمیل اوربرآمدات کے دائرہ کارمیں وسعت کواہم ضرورت قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اصل چیلنج استحکام حاصل کرنے کے بعد پائیدارترقی کا حصول ہے۔ انہوں نے حکومت پرزوردیا کہ 2026 میں توانائی کی قیمتوں میں 9 سینٹ تک کمی، صنعتی شعبے کی بحالی، زرعی وریٹیل سیکٹرکوٹیکس نیٹ میں لانے اورمعیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کوترجیح دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری 2026 میں ایک مستحکم اورخوشحال پاکستان کے لیے حکومت کے تمام مثبت اقدامات کی بھرپورحمایت جاری رکھے گی۔

قاضی جاوید گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان