حکومت زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے، آغا سید روح اللہ مہدی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
رکن پارلیمنٹ نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اب وعدوں کی تکمیل کا وقت آگیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے پھر سے ایک بار نیشنل کانفرنس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے جموں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت پر منتخب انہدامی کارروائیوں، ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ احتجاج اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ آغا سید روح اللہ مہدی جموں کے ٹرانسپورٹ نگر علاقے میں سوشل میڈیا صحافی عرفاز احمد ڈینگ کے منہدم شدہ مکان کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کی۔
انہوں نے مودی حکومت پر متاثرہ خاندان کو راحت فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ خود موقع پر آ سکتے تھے، جے ڈی اے افسران کو طلب کر کے یہ معلوم کر سکتے تھے کہ انہدامی کارروائی کا حکم کس نے دیا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلٰی چاہتے تو سچ عوام کے سامنے آ سکتا تھا۔ انہوں نے کلدیپ شرما کی جانب سے عرفاز ڈینگ کے خاندان کو مکان کی تعمیر کے لئے پانچ مرلہ زمین دینے کی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک عام شہری محدود وسائل کے باوجود یہ قدم اٹھا سکتا ہے تو حکومت نے کیوں آگے بڑھ کر متاثرہ خاندان کی مدد نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں اور اسے نہ صرف اس خاندان کی مدد کرنی چاہیئے تھی بلکہ مستقبل میں ایسی انہدامی کارروائیوں کو روکنے کے لئے بھی ٹھوس پالیسی بنانی چاہیئے، خواہ وہ جموں ہو یا کشمیر کے گاندربل جیسے اضلاع۔ عرفاز ڈینگ کا مکان 27 نومبر کو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی جانب سے انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران مسمار کیا گیا تھا، جبکہ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے اسی مکان میں رہائش پذیر تھے اور انہیں کسی قسم کا پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اب وعدوں کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو حکومت عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آتی ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو وہی عوام اسے اقتدار سے باہر بھی کر سکتے ہیں۔
ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ منتخب حکومت کو کس نے روکا تھا کہ وہ احتجاجی طلبہ سے براہِ راست بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ فائل منظوری کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی تھی تو پھر طلبہ سے مکالمہ کیوں نہیں کیا گیا اور ان کے خدشات کو دور کیوں نہیں کیا گیا۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے اس موقع پر کابینہ وزیر جاوید رانا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل کابینہ وزیر جاوید رانا نے آغا سید روح اللہ مہدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارٹی لائن پر کام نہیں کر رہے اور اگر وہ حکومت و پارٹی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ اس بیان کے بعد نیشنل کانفرنس اور آغا روھلا کے اندرونی اختلافات مزید نظر سامنے آنے لگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا غا سید روح اللہ مہدی روح اللہ مہدی نے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہیں کی کیا گیا کے لئے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز