پنجاب حکومت نے صوبے کے 2 اہم قدرتی خطوں، سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی بحالی اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے مجموعی طور پر 9.4 ارب روپے کے 2 جامع منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

ان منصوبوں کا دائرہ کار چکوال، جہلم، اٹک، میانوالی اور کوہِ سلیمان کے وسیع پہاڑی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں بگڑتے ہوئے ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کے سکڑتے مساکن کو پہلی مرتبہ ایک مربوط اور سائنسی حکمت عملی کے تحت بحال کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پرندوں کا انوکھا ملاپ: ماحولیاتی تبدیلی سے مخلوط نسل بچے پیدا ہونے لگے؟

پہلا منصوبہ }پنجاب وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ہیبی ٹیٹ ریسٹوریشن پروگرام فار کمیونٹی بیسڈ کنزرویسیز{ کے عنوان سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کے لیے 3.

9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کی کم ہوتی آبادی کو مستحکم کرنا اور مقامی کمیونٹی کو براہِ راست تحفظ کے عمل میں شریک بنانا ہے۔

’سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں قائم 15 لاجز مقامی کمیونٹی کے حوالے کیے جائیں گے‘

سرکاری دستاویزات کے مطابق سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں قائم 15 لاجز مقامی کمیونٹی کے حوالے کیے جائیں گے، جہاں رجسٹرڈ کمیونٹی بیسڈ کنزرویسیز کے ذریعے نگرانی اور کنزرویشن سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔

تکنیکی منصوبہ بندی کے تحت سالٹ رینج میں تیتر کی افزائش کے لیے 20 ریلیز سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اڑیال اور چنکارہ کی آبادی بڑھانے اور ان کے قدرتی مساکن کی بحالی کے لیے 8 کمیونٹی بریڈنگ سینٹرز بنائے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک کا رقبہ 15 ایکڑ ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت چار سرکاری بریڈنگ سینٹرز بھی قائم کرے گی، جن میں ہر سینٹر 25 ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔ منصوبے کا سب سے نمایاں جزو 300 ایکڑ پر مشتمل ایک وسیع انکلوژر کی تعمیر ہے، جہاں اڑیال، چنکارہ اور سلیمان مارخور کی دوبارہ آبادکاری سائنسی اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔

دوسرا بڑا منصوبہ سالٹ رینج نیشنل پارک میں ایکو ٹورزم کے فروغ سے متعلق ہے، جس پر 5.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔

اس منصوبے کے تحت جدید سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں چار ایکو لاجز، سیاحوں کے لیے ریسٹورنٹ، 20 ایکڑ پر مشتمل فیملی پکنک ایریا اور سالٹ رینج کمپلیکس و انفارمیشن سینٹر شامل ہیں۔ مزید برآں مختلف مقامات پر کیبل کار، زپ لائن، راک کلائمبنگ زونز، ہائیکنگ ٹریکس، جیپنگ روٹس، ویو پوائنٹس اور اینیمل واچنگ پوائنٹس بھی تیار کیے جائیں گے۔

منصوبے میں موٹروے M-2 پر سالٹ رینج کے قریب ایک نیا انٹرچینج بھی شامل ہے، جس کے ساتھ پارکنگ ایریاز، پیدل ٹریکس، جھیل کی بحالی اور سیاحوں کی بہتر رسائی کے لیے مکمل انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سالٹ رینج کی قدرتی خوبصورتی، بلند چٹانوں اور جنگلی حیات تک عوامی رسائی کو منظم کرنا اور سیاحت کو ماحول دوست خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بھی معاشی فائدہ حاصل ہو۔

محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے صوبے میں پہلی بار کنزرویشن، سیاحت اور کمیونٹی شراکت داری کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت جوڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ماحولیاتی تبدیلی: پنجاب حکومت کا موٹرسائیکل سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آگیا

ان کے مطابق سالٹ رینج کے پہاڑی علاقے شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں، اور ان منصوبوں کے ذریعے زمینی حقائق کے مطابق ایک نیا، پائیدار ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں مقامی کمیونٹیز کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق دونوں منصوبے جون 2027 تک مکمل کیے جانے کا ہدف رکھتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی نے بھی ان اقدامات کو علاقے کی سیاحتی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پنجاب حکومت منصوبے منظور وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت وی نیوز مقامی کمیونٹی کیے جائیں گے پنجاب حکومت جنگلی حیات سلیمان میں ارب روپے کے مطابق کے تحت کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار