پنجاب حکومت نے سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں 9.4 ارب روپے کے 2 بڑے ماحولیاتی منصوبے منظور کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے کے 2 اہم قدرتی خطوں، سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی بحالی اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے مجموعی طور پر 9.4 ارب روپے کے 2 جامع منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
ان منصوبوں کا دائرہ کار چکوال، جہلم، اٹک، میانوالی اور کوہِ سلیمان کے وسیع پہاڑی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں بگڑتے ہوئے ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کے سکڑتے مساکن کو پہلی مرتبہ ایک مربوط اور سائنسی حکمت عملی کے تحت بحال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پرندوں کا انوکھا ملاپ: ماحولیاتی تبدیلی سے مخلوط نسل بچے پیدا ہونے لگے؟
پہلا منصوبہ }پنجاب وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ہیبی ٹیٹ ریسٹوریشن پروگرام فار کمیونٹی بیسڈ کنزرویسیز{ کے عنوان سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کے لیے 3.
اس منصوبے کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کی کم ہوتی آبادی کو مستحکم کرنا اور مقامی کمیونٹی کو براہِ راست تحفظ کے عمل میں شریک بنانا ہے۔
’سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں قائم 15 لاجز مقامی کمیونٹی کے حوالے کیے جائیں گے‘
سرکاری دستاویزات کے مطابق سالٹ رینج اور کوہِ سلیمان میں قائم 15 لاجز مقامی کمیونٹی کے حوالے کیے جائیں گے، جہاں رجسٹرڈ کمیونٹی بیسڈ کنزرویسیز کے ذریعے نگرانی اور کنزرویشن سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔
تکنیکی منصوبہ بندی کے تحت سالٹ رینج میں تیتر کی افزائش کے لیے 20 ریلیز سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اڑیال اور چنکارہ کی آبادی بڑھانے اور ان کے قدرتی مساکن کی بحالی کے لیے 8 کمیونٹی بریڈنگ سینٹرز بنائے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک کا رقبہ 15 ایکڑ ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت چار سرکاری بریڈنگ سینٹرز بھی قائم کرے گی، جن میں ہر سینٹر 25 ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔ منصوبے کا سب سے نمایاں جزو 300 ایکڑ پر مشتمل ایک وسیع انکلوژر کی تعمیر ہے، جہاں اڑیال، چنکارہ اور سلیمان مارخور کی دوبارہ آبادکاری سائنسی اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔
دوسرا بڑا منصوبہ سالٹ رینج نیشنل پارک میں ایکو ٹورزم کے فروغ سے متعلق ہے، جس پر 5.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔
اس منصوبے کے تحت جدید سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں چار ایکو لاجز، سیاحوں کے لیے ریسٹورنٹ، 20 ایکڑ پر مشتمل فیملی پکنک ایریا اور سالٹ رینج کمپلیکس و انفارمیشن سینٹر شامل ہیں۔ مزید برآں مختلف مقامات پر کیبل کار، زپ لائن، راک کلائمبنگ زونز، ہائیکنگ ٹریکس، جیپنگ روٹس، ویو پوائنٹس اور اینیمل واچنگ پوائنٹس بھی تیار کیے جائیں گے۔
منصوبے میں موٹروے M-2 پر سالٹ رینج کے قریب ایک نیا انٹرچینج بھی شامل ہے، جس کے ساتھ پارکنگ ایریاز، پیدل ٹریکس، جھیل کی بحالی اور سیاحوں کی بہتر رسائی کے لیے مکمل انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سالٹ رینج کی قدرتی خوبصورتی، بلند چٹانوں اور جنگلی حیات تک عوامی رسائی کو منظم کرنا اور سیاحت کو ماحول دوست خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بھی معاشی فائدہ حاصل ہو۔
محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے صوبے میں پہلی بار کنزرویشن، سیاحت اور کمیونٹی شراکت داری کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت جوڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ماحولیاتی تبدیلی: پنجاب حکومت کا موٹرسائیکل سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آگیا
ان کے مطابق سالٹ رینج کے پہاڑی علاقے شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں، اور ان منصوبوں کے ذریعے زمینی حقائق کے مطابق ایک نیا، پائیدار ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں مقامی کمیونٹیز کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق دونوں منصوبے جون 2027 تک مکمل کیے جانے کا ہدف رکھتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی نے بھی ان اقدامات کو علاقے کی سیاحتی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب حکومت منصوبے منظور وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت وی نیوز مقامی کمیونٹی کیے جائیں گے پنجاب حکومت جنگلی حیات سلیمان میں ارب روپے کے مطابق کے تحت کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں