وفاق پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے ،وزیرا علیٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کو سزاؤں پر سزائیں دی جا رہی ہیں جبکہ 5300 ارب روپے کی کرپشن کا سوال بھی نہیں پوچھا جا رہا۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے محکمہ آبپاشی کے تحت ای آبیانہ ایپ کا باقاعدہ اجرا کر دیا۔یہ اقدام شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے تحت سرکاری محکموں کے امور کو مرحلہ وار ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اب تک صوبائی محکموں کے 60 سے 70 فیصد نظام کو ڈیجیٹل بنایا جا چکا ہے جبکہ ہدف ہے کہ رواں مالی سال جون تک ڈیجیٹائزیشن کا عمل سو فیصد مکمل کر لیا جائے۔آبیانہ کی وصولی کا پورا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے جس کے تحت ریکارڈ محفوظ، شفاف اور صارفین کے لیے آسانی سے قابلِ رسائی ہوگا۔زمین اور پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا کو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ریکارڈ کی درستگی اور محکمے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور صوبے کے اربوں روپے کے بقایاجات ادا نہیں کیے جا رہے۔جو محدود فسکل ریلیز دی جاتی ہے، اس پر بھی میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، جبکہ وفاق کو چاہیے کہ دیگر صوبوں کو دی جانے والی فسکل ریلیز کا بھی اسی طرح احتساب کرے۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور سزاؤں پر سزائیں دی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن سامنے آنے کے باوجود کسی سے سوال نہیں پوچھا جا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔