بلوچستان پولیس نے 2025ء میں کئی حملوں کو ناکام بنایا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-05-1
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس نے گزشتہ سال گوادر سمیت بلوچستان بھر میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنایا ہے جس طرح پولیس نے تھانوں اور مختلف مقامات پر دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھر پور جواب دیکر انہیں ناکام کیا ہے جو قابل تحسین عمل ہے۔ جس کی وجہ سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی واقعہ ہوئی ہے آنے والے سال میں پولیس کے استعداد کار بہتر بناتے ہوئے مختلف شعبوں میں بھرتیوں کے عمل کو میرٹ کی بنیاد پر پر کرکے بہتر میکانزم کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے۔ پولیس نے 111 سے زائد مسروقہ گاڑیاں 880 موٹر سائیکلیں، 725 مطلوب ملزمان،4799 اشتہاری ملزمان،10عدالت سے سزا یافتہ، اغوا برائے تاوان کے 255 اور 14344 جرائم پیشہ افراد اور مختلف وارداتوں میں ملوث 103 خطرناک گینگز گرفتار کئے۔ پولیس مقابلے میں 74 ملزمان مارے گئے بھاری مالیت کے زیورات، ہزاروں لیٹر ایرانی پیٹرول ڈیزل برآمد کرکے 1110 پیٹرول پمپ سیل کئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں میڈیا کو سالانہ بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر ز بلوچستان حسن اسد علوی اور اے آئی جی آپریشنز بلوچستان کیپٹن (ر) نوید عالم بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ سالِ نو میں صوبے کے تمام اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر بالخصوص خطرناک گینگز، عادی مجرمان اور منظم گروہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کو مزید سخت بناتے ہوئے منظم جرائم کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیں گے اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سماج دشمن عناصر کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔ عوام کی سہولت کیلیے کرائم برا نچ کا دائرہ کار بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑھا کر لوگوں کے لئے مختلف دفاتر قائم کئے جایں گے تاکہ لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ پولیس میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں عمل میں لائی گئیں سیکورٹی ڈویڑن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور 1000 پولیس اہلکاروں کو مختلف شخصیات سے سیکورٹی واپس لیکر جہاں پر نفری کم تھی انہیں تعینات کیا گیا ہے اے ٹی ایف کی 1500 سے نفری کو بڑھا کر 3 ہزار کیا جائے۔ 81 تھانوں کے انفرااسٹکچر کو بہتر بنانے پر کام کا آغاز کیا جارہا ہے 30 ڈیٹا بیس سینٹر 2026ء میں بنائے جائیں گے۔ اور آئی ٹی کے شعبے کو مزید مستحکم بنایا جائے گا سیف سٹی کا منصوبہ کوئٹہ میں مکمل ہوچکا ہے۔ گوادر اور باقی علاقوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔ وفاقی وزارت داخلہ، صوبائی حکومت کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں پولیس اپنی مدد آپ کے تحت بھی گاڑیاں حاصل کریگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس نے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔