WE News:
2026-06-02@20:45:59 GMT

علم نجوم کی روشنی میں سال 2026 پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

علم نجوم کی روشنی میں سال 2026 پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟

سال 2025 اپنے اختتام کو پہنچ چکا اور دنیا ایک نئے سال 2026 کو خوش آمدید کہہ چکی ہے، بدلتی ہوئی عالمی، علاقائی اور داخلی صورتحال کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کررہا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے لیے کیسا ثابت ہوگا۔

عالمی کشیدگی، سیاسی غیر یقینی اور معاشی چیلنجز کے پس منظر میں مختلف ماہرین اور علمِ نجوم سے وابستہ شخصیات سال 2026 کو پاکستان کے لیے اہم تبدیلیوں اور فیصلوں کا سال قرار دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: 2024 میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی، کورونا وبا کی پیشگوئی کرنے والے نجومی کا دعویٰ

علمِ نجوم سے وابستہ ماہر سامعہ خان کے مطابق سال 2026 پاکستان کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اہم تبدیلیوں کا حامل ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم پاکستان کے حالات مجموعی طور پر نسبتاً بہتر رہنے کے امکانات ہیں۔

’بھارت پاکستان کے ساتھ براہ راست کسی تنازع میں الجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا‘

سامعہ خان کے مطابق چونکہ بھارت اس وقت اندرونی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث وہ پاکستان کے ساتھ کسی بڑے یا براہِ راست تنازع میں الجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ فروری کے بعد دنیا ایک نہایت حساس عالمی مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جو آئندہ چند برسوں تک عالمی سطح پر بے چینی اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان اور اس کے گرد و نواح کا خطہ اس صورتحال سے نسبتاً محفوظ رہے گا۔

آسٹرولجر سامعہ خان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے قدرتی وسائل اور محلِ وقوع عالمی توجہ حاصل کریں گے۔

ملکی معیشت کو استحکام ملنے کے امکانات

معاشی حوالے سے سامعہ خان کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں، جس سے ملکی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔

تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستانی نوجوانوں میں عالمی سطح پر بہتر کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ انہیں درست سمت میں مواقع فراہم کیے جائیں۔

سامعہ خان نے کہاکہ اگر پاکستان نے اتحاد، دانشمندی اور مثبت حکمتِ عملی کے ساتھ آنے والے حالات کا سامنا کیا تو سال 2026 ملک کے لیے ترقی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

’عمران خان بتدریج سیاسی گمنامی کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں‘

عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فروری 2026 کے بعد عمران خان کے لیے سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں وہ عمران خان کے لیے ’آئیسولیشن‘ کی اصطلاح استعمال کرتی رہی ہیں، تاہم اب ان کے مطابق حالات اس سمت بڑھ سکتے ہیں جہاں عمران خان بتدریج سیاسی گمنامی کی طرف جاتے دکھائی دیں گے۔

’2026 اہم اور فیصلہ کن تبدیلیوں کا سال ہو سکتا ہے‘

آسٹرولجر حیدر علی جعفری کا کہنا ہے کہ سال 2026 دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے اہم اور فیصلہ کن تبدیلیوں کا حامل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق جنوری اور فروری 2026 ایسے مہینے ہوں گے جن میں عالمی سطح پر بے چینی، سیاسی غلط فیصلوں اور کشیدگی کے امکانات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

حیدر علی جعفری کے مطابق پاکستان کا افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدی علاقوں میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یوکرین جنگ اور جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی میں اضافے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

ان حالات کو وہ ایک بڑے تبدیلی کے عمل سے تعبیر کرتے ہیں، جس کے بعد عالمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ علمِ اعداد کے مطابق سال 2025 کا عددی مجموعہ 9 بنتا ہے، جسے اختتام اور منتقلی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ نکولا ٹیسلا کے 3، 6 اور 9 کے نظریے کے تناظر میں دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

’اس حوالے سے سیارہ زحل کی پوزیشن میں تبدیلی کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جسے تاریخی اور سیاسی موڑ سے جوڑا جاتا ہے۔‘

’2026 کے دوران پاکستان ایک سیاسی ری سیٹ کے عمل سے گزر سکتا ہے‘

نجومی حیدر علی جعفری کے مطابق 2026 کے دوران پاکستان ایک سیاسی ری سیٹ کے عمل سے گزر سکتا ہے، جہاں موجودہ سیاسی ڈھانچہ کمزور پڑنے اور نئی سیاسی سوچ اور قیادت کے ابھرنے کے امکانات ہیں۔

ان کے بقول طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے اور بعض موجودہ سیاسی چہرے منظر سے ہٹ سکتے ہیں۔

عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ آئندہ دو سے تین برسوں میں مسلم دنیا کو دباؤ کا سامنا رہ سکتا ہے، تاہم اس کے بعد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ردعمل کے نتیجے میں عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: انسانی علم متروک ہونے والا ہے، حیران کن پیشگوئی

ان کے مطابق بعض روحانی اور تاریخی حوالوں میں بھی ایشیا کے بڑھتے ہوئے کردار اور نئے عالمی اتحاد کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

حیدر علی جعفری کے مطابق 2026 کے بعد کے 9 سے 10 سال دنیا میں نئی قیادت، نئے اتحاد اور نئے معاشی و سیاسی منصوبوں کا دور ہو سکتے ہیں، جہاں پاکستان کے لیے بھی ایک نئے کردار کے ساتھ سامنے آنے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس سے قبل ملک اور خطے کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

2026 wenews امکانات علم نجوم نیا سال وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امکانات نیا سال وی نیوز ان کا کہنا ہے کہ حیدر علی جعفری پاکستان کے لیے عالمی سطح پر عمران خان کے ان کے مطابق کے امکانات ہو سکتا ہے سکتے ہیں نے کہاکہ کے ساتھ سال 2026 کے بعد

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ