2026 اور مستقبل کے امکانات
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-03-2
2025 پاکستان کے لیے ایک مشکل برس تھا۔ اگرچہ اسی برس میں ہم نے بھارت کی مہم جوئی پر برتری حاصل کی تھی اور دنیا میں اس تاثر کو مضبوط کیا کہ پاکستان دفاعی طور پر بھارت کے مقابلے میں نہ صرف مضبوط ہے بلکہ اپنی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کرنا بھی جانتا ہے۔دنیا نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں دفاعی برتری ثابت کی، لیکن جہاں ہمیں بھارت کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا وہیں ہمیں بھارت اور افغانستان کے باہمی گٹھ جوڑ کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ان دونوں ملکوں نے پاکستان مخالف پراکسی کی بنیاد پر دہشت گردی کے حالات پیدا کیے۔اس لیے جہاں آج ہمیں بھارت کی طرف سے جارحیت کا خطرہ ہے وہیں افغانستان کی جانب سے بھی کافی مسائل کا سامنا ہے۔پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے ذریعے بھارت اور افغانستان سے جڑے معاملات کو درست کرنے کی بہت کوششیں کیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ 2025 میں سب سے بڑا چیلنج یہ رہا کہ پاکستان کے داخلی مسائل کا کوئی حل سامنے نہیں آ سکا۔سیاسی محاذآرائی،ٹکرائو اور سیاسی تقسیم نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا مفاہمت کی جو بھی کوششیں کی جاتی رہیں وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مفاہمت کو سیاسی ڈکٹیشن کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو طاقت کے زور پر کمزور کیا جا سکے۔ایک طرف بانی پی ٹی آئی ہے تو دوسری طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی رسہ کشی کا کھیل جاری ہے اس کھیل نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سطح پر یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کو نہ صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کو دیوار سے لگانے کی کوششیں بھی اسی کھیل کا حصہ ہیں۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ایک بڑے سیکورٹی تھریٹ سے جوڑ دیا ہے اوراسی بنیاد پر پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور خیبر پختون خوا میں گورنر راج کی باتیں ہو رہی ہیں۔ایک طرف کہا جاتا ہے حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے دوسری طرف جس قسم کی الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں اس کے بعد مفاہمت کے امکانات کیسے پیدا ہوں گے؟بانی پی ٹی آئی کو سیکورٹی تھریٹ قرار دینے کا معاملہ کوئی پہلی دفعہ سامنے نہیں آیا بلکہ ماضی کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن بعد میں انہی سیاستدانوں کو دوبارہ اقتدار کا موقع بھی دیا گیا۔اسی طرح 26ویں اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا، پاکستان کا عدالتی نظام ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ میڈیا کے محاذ پر بھی بہت ساری پابندیاں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت اور ریاست نے طے کر لیا ہے کہ وہ ایسی کسی آواز کو تسلیم نہیں کریں گے جو ان کے مفادات کے خلاف ہوگی۔میڈیا پر ایسے کئی لوگوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جو ایک متبادل آواز رکھتے تھے۔ سول سوسائٹی بھی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے اور جو بھی حکومت کے خلاف بات کرتا ہے اُسے طاقت سے میں کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔گورننس کا مجموعی نظام لوگوں کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ حکومت نے معاشی بہتری کے جتنے بھی دعوے کر رکھے ہیں ان کا تعلق امرا کے طبقے سے ہے جبکہ کمزور لوگ عملی طور پر سیاسی اور معاشی محرومی کا شکار ہیں۔ معاشی خود مختاری کے بھی تمام تر دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہیں۔سیاسی اور معاشی نظام کی مضبوطی کے لیے اسٹرکچرل ریفارمز سے ہم انکاری ہیں۔آئی ایم ایف کا پاکستان پہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی اور معاشی سمیت بیوروکریسی کے نظام میں سخت گیر اصلاحات یا بڑے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معاشی صورتحال کسی بھی صورت میں بہتر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے لوگوں کو بار بار یہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ ہم ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور دنیا پاکستان کو ایک اہم ملک قرار دے رہی ہے اور ہمارے لیے معاشی ترقی کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔لیکن اس وقت جو بھی معاشی حقائق ہیں وہ حکمرانوں کے دعووں سے بہت مختلف ہیں۔بہت سے معاشی ماہرین پاکستان کی معیشت کو ایک بیمار معیشت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کا سارا انحصار غیر ملکی امداد، قرضوں یا غیر ملکی قوتوں پر ہے۔ایسے میں معاشی خود مختاری کے دعوے محض ہوائی باتوں کے سوا کچھ نہیں۔اس ساری صورتحال میں جب ہم 2026 میں داخل ہو رہے ہیں تو لوگوں میں یہ خدشات موجود ہیں کہ کیا 2026 بھی ہمارے لیے 2025 کی طرح کا ہوگا اور ہمارے مسائل حل ہونے کے بجائے اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوں گے۔ایسا لگتا ہے کہ ہم نئے برس میں بھی سیاسی، معاشی، گورننس اور سیکورٹی کے مسائل میں بہتری پیدا کرنے کے بجائے اور زیادہ ٹکراؤ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔اگرچہ حکومت بہت سی خرابیوں کی براہ راست ذمے داری عمران خان اور پی ٹی آئی پر ڈال رہی ہے لیکن وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ خود ان حالات کو پیدا کرنے میں ان کا اپنا کتنا بڑا حصہ ہے۔ عمومی طور پہ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے جب حکومت اور ریاستی ادارے سیاسی مخالفین کے لیے راستے بند کر دیں گے تو ایسے میں سیاسی اور معاشی استحکام خواب ہی نظر آئے گا۔ حالات کی بہتری میں جو فہم و فراست اور تدبر اور سیاسی حکمت عملیاں حکومت کی سطح پر نظر آنی چاہیے اس کا واضح فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ویسے بھی اس وقت جو لڑائی پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری ہے وہ حکومت کے حق میں ہے اور حکومت چاہے گی کہ کسی بھی صورت میں یہ لڑائی ختم نہ ہو تاکہ اس کا براہ راست فائدہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں اٹھا سکیں۔ سب سے بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی استحکام کو نظر انداز کر کے معاشی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے؟ یا سیاسی اور معاشی استحکام کو نظر انداز کر کے سیکورٹی کے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں؟ تو جواب نفی میں ہوگا۔اس لیے جب تک پاکستان کے سیاسی حالات بہتر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک معاشی اور سیکورٹی کا استحکام ممکن نہیں۔ 2026 میں بھی ہمیں انہی مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہم حقیقی مسائل کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بگڑے ہوئے مسائل کو کارپٹ کے نیچے ڈال کر ہم خود کو بچا سکتے ہیں،لیکن ہم غلطی پر ہیں۔ 2026 میں ہمیں مختلف محاذوں پر ٹکراؤ کی سیاست دیکھنے کو ملے گی اور اس کی ایک بڑی بھاری قیمت اس ریاست اور عوام کو ادا کرنی پڑے گی۔ ہم داخلی معاملات کے حل کا فہم رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں ان مسائل کا ادراک ہے۔ہم سمجھ رہے ہیں کہ جیسے ملک چل رہا ہے اسی طرح ملک چلا کر ہم اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دے سکتے ہیں تو یقینا ایسا ہو سکتا ہے۔لیکن عوامی مسائل کا کوئی حل ہمارے حکمران طبقے کے پاس نہیں ہے۔ جب سیاسی مخالفین کو طاقت سے دبانے کی واحد حکمت عملی ہی ہمارے پاس موجود ہو تو پھر سوائے انتشار کی سیاست کے اور کچھ نہیں باقی بچتا۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عام آدمی کا رشتہ ریاست سے کمزور ہو رہا ہے اور اگر ہم نے لوگوں کے حقیقی مسائل کو حل نہ کیا تو یہ رشتہ مزید کمزور ہوگا۔اس لیے 2026 کا برس ہمارے لیے داخلی سطح پر بہت سے چیلنجز رکھتا ہے۔ یہ چیلنجز سیاسی معاشی آئینی اور قانونی نوعیت کے ہیں اور ساتھ ساتھ ہمیں حکمرانی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔لیکن ان مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا اور اس کی حکمت عملی کیا ہوگی اس کی کوئی واضح شکل یا روڈ میپ حکمران طبقہ پیش کرنے میں ناکام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیاسی اور معاشی پاکستان کے حکومت اور پی ٹی ا ئی مسائل کا کا سامنا پیدا کر ہیں اور رہے ہیں اور اس کے لیے ہے اور رہا ہے ہیں کہ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔