سال 2025: سپریم کورٹ، آئین، سیاست اور انصاف، فیصلے جو تاریخ بدل گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سال 2025 کے بڑے عدالتی فیصلوں کا اگر ذکر کیا جائے تو وہ 2 تھے۔ ایک 27 جون پی ٹی آئی مخصوص نشستوں پر نظرثانی فیصلہ اور دوسرا فوجی عدالتوں کے حوالے سے آئینی بینچ کا فیصلہ۔ اس کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججز کی نامزدگی اور آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے اعلیٰ عدالتی نظام میں جوہری تبدیلیاں آئیں جو اس لحاظ سے خوش آئند ہیں کہ حال ہی میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کو مقدمات کی منتقلی کے بعد سپریم کورٹ میں مقدمات کی تعداد 33 ہزار سے کچھ زائد رہ گئی ہے جبکہ نومبر میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے پہلے یہ تعداد 56 ہزار سے زائد تھی۔
سال 2024 میں سپریم کورٹ سے سیاسی اور آئینی نوعیت کے تمام مقدمات 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سے پہلے آئینی بینچ کو منتقل ہوئے اور سال 2025 میں یہ آئینی بینچ سے آئینی عدالت کو منتقل ہو گئے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے 19 افسران و ملازمین کی خدمات وفاقی آئینی عدالت کے سپرد
26 اور 27 ویں ترمیم کے بعد وہ سپریم کورٹ جو کبھی مرکزِ نگاہ اور میڈیا کی شہ سرخیوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، وہ صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ اس پر وکلا تنظیموں کی جانب سے ردعمل بھی آیا اور ان ترامیم کو خلاف آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دے کر تحاریک چلانے کی باتیں بھی ہوئیں لیکن عملی طور پر کوئی پُر اثر احتجاجی تحریک سامنے آ سکی اور نہ ہی عدالتوں سے ان ترامیم کے خلاف دائر درخواستوں پر کوئی فیصلہ آیا۔
مذکورہ ترامیم کے بعد ججوں کی اعلیٰ عدلیہ میں نامزدگی کے طریقہ کار میں بھی واضح تبدیلیاں آئیں اور 27ویں ترمیم پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 14 نومبر کو بطور سپریم کورٹ جج استعفے دے دیے جو قبول کر لیے گئے۔
اکتوبر 2024 میں چیف چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے والے چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے خود کو سیاسی معاملات سے الگ کرکے انتظامی معاملات پر زیادہ توّجہ مرکوز کی اور انتظامی سطح پر کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جیسا کہ کیس مینجمنٹ سسٹم میں تبدیلی، جیل اصلاحات، فوجداری مقدمات کی جلد شنوائی وغیرہ۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ، قتل کے مجرم کی دُہری سزا عمر قید برقرار
سال کا آغاز ججز کے درمیان ایک مقدمے کی سماعت سے متعلق کشیدگی سے ہوا جب جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں قائم بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذرعباس کے خلاف توہین عدالت مقدمے کے فیصلے میں کہا کہ فُل کورٹ اس بات کا جائزہ لے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ججز کمیٹی نے جس طرح سے بینچ کے سامنے زیر التوا مقدمہ ہٹایا وہ توہینِ عدالت کے زُمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ اُس کے بعد آئینی بینچ نے اس مقدمے کی بنیاد بننے والے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے احکامات واپس لے لیے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیریاس سال 18 دسمبر کو عدالتی فیصلے کے ذریعے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ گو کہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیا لیکن اُس سے قبل جب ستمبر میں اُنہیں کام سے روکا گیا تو سپریم کورٹ نے اُنہیں بحال کیا تھا اور اُس وقت جب 16 ستمبر کو اُنہیں کام سے روکا گیا تو وکلا کی بڑی تعداد نے اس کے خلاف احتجاج اور جزوی عدالتی بائیکاٹ بھی کیا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے استقبالیہ پر دل کا دورہ، راولپنڈی کے رہائشی عابد حسین چل بسا
جسٹس جہانگیری کے ساتھ 4 دیگر جج صاحبان بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے اور سماعت کے لیے پیش ہوئے۔ جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بہت سے مقدمات کی سماعت ملتوی ہوگئی۔
فوجداری مقدماتسال 2025 میں سپریم کورٹ کے کچھ فوجداری فیصلے ایسے بھی رہے جو تعداد میں کم مگر اثر میں بہت بڑے ثابت ہوئے۔ ایک ریپ کیس میں عدالت نے سزا یافتہ ملزم کی 20 سال قید کو کم کرکے 5 سال کردیا اور مقدمے کو ریپ کے بجائے ’رضامندی پر مبنی تعلق‘ قرار دیا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ زور زبردستی کے شواہد ناکافی تھے اور مقدمہ درج کرنے میں تاخیر ہوئی۔
اس فیصلے پر خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ متاثرہ خواتین کو مزید خاموش کرنے کا سبب بنے گا۔ خود بینچ میں بھی ایک جج نے اختلافی نوٹ تحریر کیا کہ پاکستانی معاشرے میں تاخیر کو ریپ کے خلاف دلیل بنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا ایک شاندار فیصلہ
بیوی کا نان و نفقہ نکاح کے ساتھ ہی واجب، ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں12 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کا حق نان و نفقہ نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، یہ نہ تو ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط ہے اور نہ ہی شوہر کی صوابدید پر منحصر ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نان و نفقہ کی ادائیگی شوہر کا قانونی فریضہ ہے جو نکاح کی تکمیل کے ساتھ ہی لازم ہو جاتا ہے۔ رخصتی نہ ہونے پر شوہر کو نان و نفقہ سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ماورائے عدالت حراستی قتل ’فساد فی الارض‘ قرار24 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں ماورائے عدالت حراستی قتل کو ’فساد فی الارض‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والا اہلکار اگر شہری کا قاتل بن جائے تو اسے سب سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: عدالتی شیڈول جاری، وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں محدود سماعتیں
یہ فیصلہ بلوچستان کے علاقے تربت میں ایف سی اہلکار کے ہاتھوں ایک شہری حیات کے قتل سے متعلق کیس میں سنایا گیا، جس میں عدالت نے مجرم شادی اللہ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی۔ فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا۔
افغان شہریوں کو شہریت دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل30 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے افغان شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈاور شہریت دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
نان نفقہ کیس: پنجاب پراسیکیوشن پر 22 لاکھ جرمانہ7 اپریل کو سپریم کورٹ نے ایک دلچسپ معاملے میں پنجاب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پر عائد 22 لاکھ جرمانے کا حکم برقرار رکھا۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے 11 فروری 2024 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کئی مقدمات میں ضمانتیں منظور کی تھیں۔
مزید پڑھیں: عدالتی شیڈول جاری، وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں محدود سماعتیں
جس کے بعد پنجاب محکمہ جیل خانہ جات نے پنجاب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے جج ملک اعجاز آصف کے خلاف ریفرنس دائر کیا جس میں کہا گیا کہ مذکورہ جج بانی پی ٹی آئی سے خاص ہمدردی رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے عمران خان سے جیل میں ملاقات بھی کی اور پوچھا کہ وہ اُن کے لیے کیا کرسکتے ہیں، جس کا اُنہیں اختیار نہیں تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے پنجاب حکومت کا نہ صرف ریفرنس مسترد کر دیا تھا بلکہ پنجاب حکومت کی جانب سے جتنے مقدمات کی جج ملک اعجاز آصف کی عدالت سے منتقلی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں ہر کیس کے لیے 2 لاکھ روپے جرُمانہ عائد کیا گیا تھا۔
نورمقدم قتل کیس20 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں نور مقدم قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا پانے والے ظاہر جعفر کی قتل کے مقدمے میں سزائے موت برقرار رکھی جبکہ ریپ الزامات کے تحت ملنے والی سزائے موت کو عمر قید سے تبدیل کردیا۔
مزید پڑھیں: ملزم کی ضمانت، سپریم کورٹ نے مقدمات میں پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے
مقدمے کی سماعت کے دوران غیر ازدواجی تعلقات پر جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی، ساتھ ہی ساتھ اغوا کے بجائے غیر قانونی حراست کے ریمارکس پر بھی سول سوسائٹی کی جانب سے تنقید کی گئی۔
سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے7 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے 5-2 کی اکثریت سے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کی اجازت دے دی تھی۔ آئینی بینچ نے وزارت دفاع اور دیگر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جو انہوں نے 23 جولائی 2023 کو جاری کیا تھا۔
جبکہ 30 مئی کو جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتی نظام کا مقصد نظم، اخلاقیات اور ڈسپلن کو فروغ دینا ہے، ملٹری لا صرف سزا نہیں بلکہ فوجی نظم و ضبط کا جامع نظام ہے۔
25 جون کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت کی درخواست کردی۔ تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ سننے سے معذرت کرلی۔ اس کے بعد 17 اکتوبر کو نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی چیف جسٹس کو ایک خط لکھا جس میں عمران خان سے ملاقات کرانے کی استدعا کی گئی۔
مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے ملزم کی میت پر ہنگامہ، سپریم کورٹ نے مولوی احمد کی ضمانت مسترد کردی
پاکستان تحریک انصاف مخصوص نشستوں کے لیے نااہل27 جون کو سپریم کورٹ کے 10 رُکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کے لیے نااہل قرار دیا۔ 04 صفحات پر مشتمل تحریری مختصر حکمنامے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کردیا گیا۔ جس کی رو سے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خالی رہ جانے والی مخصوص نشستیں پارلیمانی جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔
قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 77 مخصوص نشستیں جو 8 فروری 2024 انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اِسلام میں تقسیم کی گئی تھیں وہ بحال ہو گئی ہیں۔
34 برس پرانے قتل کیس میں نامزد ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور3 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے 34 سال پرانے ایک قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں ملک کے فوجداری نظامِ انصاف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کمزور و ناکام عدالتی نظام کو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ وہ سزا جو کسی قیدی کو ایک کمزور، ناکام اور سمجھوتا شدہ نظام انصاف کے باعث برداشت کرنا پڑے، نہ تو قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔
مزید پڑھیں: سیشن ججز کے اختیارات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا
طلاق یافتہ بیٹیوں کا باپ کی پینشن پر حق ہےاس سال 30 جولائی کو جسٹس عائشہ اے ملک نے پینشن سے متعلق طلاق یافتہ بیٹیوں کے حق میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پینشن کسی بیٹی کو شادی کی حیثیت پر نہیں بلکہ اس کے قانونی حق کی بنیاد پر دی جائے گی۔ عدالت نے سندھ حکومت کے 2022 میں جاری کردہ امتیازی سرکلر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ پینشن سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے، خیرات یا بخشش نہیں، اور یہ حق اہلِخانہ کو منتقل ہوتا ہے۔ اس میں تاخیر کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
زیرالتوا اپیل کی وجہ سے فیصلے پر عمل درآمد نہیں رُک سکتا23 جولائی کو سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل، نظرثانی یا آئینی درخواست زیر التوا ہو تو اس بنیاد پر اُس فیصلے پر عملدرآمد نہیں روکا جا سکتا۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے تحریر کیا ہے، جسے 3 رکنی بینچ نے سنایا۔ بینچ میں شریک دیگر ججز میں جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2025 اور انصاف سپریم کورٹ طارق محمود جہانگیری عدلیہ ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 2025 اور انصاف سپریم کورٹ طارق محمود جہانگیری عدلیہ ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ کے کو سپریم کورٹ سپریم کورٹ نے ا ئینی عدالت مزید پڑھیں کی جانب سے فیصلے میں مقدمات کی دیتے ہوئے ف پاکستان کے ذریعے یہ فیصلہ قرار دیا عدالت کے اور جسٹس چیف جسٹس کے خلاف کے ساتھ کیس میں ملزم کی دیا گیا میں کہا ساتھ ہی کی گئی سال 2025 کے لیے خلاف ا نے ایک ہی میں کے بعد کورٹ ا ا نہیں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔