جسٹس کنہا نے اپنی حتمی سفارشات میں حکومت پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد، شفافیت اور اصلاحات کی فوری ضرورت کے پیش نظر رپورٹ کو جلد از جلد عوامی سطح پر جاری کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ کووِڈ-19 وباء کے دوران سابق بی جے پی حکومت کے تحت طبی انتظامات، ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کے لئے قائم واحد رکنی کمیشن کے سربراہ، سابق جج جسٹس جان مائیکل کنہا نے بدھ کو اپنی حتمی رپورٹ کرناٹک حکومت کے حوالے کر دی۔ جسٹس کنہا نے دو جلدوں پر مشتمل رپورٹ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا اور ریاست کی چیف سکریٹری شالنی راج نیش کو پیش کی، اگرچہ رپورٹ کی تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے مطابق رپورٹ کا تعلق بنگلور اربن اور بیلگاوی اضلاع میں کووِڈ کے دوران کی گئی خریداریوں میں مبینہ بے قاعدگیوں سے ہے۔

سرکاری معلومات کے مطابق بنگلورو اربن ضلع میں تقریباً 63.

79 کروڑ روپے جبکہ بیلگاوی ضلع میں 42.19 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے۔ جسٹس کنہا نے اپنی حتمی سفارشات میں حکومت پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد، شفافیت اور اصلاحات کی فوری ضرورت کے پیش نظر رپورٹ کو جلد از جلد عوامی سطح پر جاری کیا جائے۔ یہ کمیشن اگست 2023ء میں اُس وقت قائم کیا گیا تھا جب کرناٹک اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وباء کے دوران ادویات، آلات اور مجموعی کووِڈ مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے شبہات ظاہر کئے تھے۔ اگرچہ کمیشن کو تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنی تھی، تاہم اس نے نومبر 2024ء میں عبوری رپورٹ دی۔

اس سے قبل ریاست کے وزیرِ طبی تعلیم شرن پرکاش پاٹل نے دعویٰ کیا تھا کہ عبوری رپورٹ میں صرف ان کے محکمے میں 918 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں بعض افسران سے 92 کروڑ روپے کی وصولی کی سفارش بھی کی گئی تھی، جبکہ بنگلورو کے کِڈوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ آف آنکولوجی میں آر ٹی-پی سی آر آلات کی خریداری میں 200 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کروڑ روپے کنہا نے

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف