قائمہ کمیٹی میں سندھ سولر انرجی منصوبے میں کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پروجیکٹ میں اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیاں ہو رہی ہیں۔
اس منصوبے کے تحت این جی اوز کی کوشش تھی کہ غریب اور مستحق افراد کو سولر پینلز فراہم کیے جائیں، لیکن چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ جو سولر پینل مارکیٹ میں 21 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اسے منصوبے کے تحت 60 ہزار روپے میں خریدا گیا، جس سے واضح طور پر مالی بدانتظامی سامنے آئی۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں متعلقہ سیکرٹری کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شفافیت کے ساتھ تحقیقات کی جا سکیں۔
اسی اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواتین میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں بھی انکشاف کیا، جس پر مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔