زمبابوے کے کپتان سکندر رضا کے کم عمر بھائی انتقال کر گئے، کرکٹ برادری سوگوار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
زمبابوے کی قومی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سکندر رضا کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے، جہاں ان کے 13 سالہ چھوٹے بھائی محمد مہدی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ اس افسوسناک خبر پر زمبابوے کرکٹ سمیت دنیا بھر کی کرکٹ برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
زمبابوے کے معروف آل راؤنڈر اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سکندر رضا کے چھوٹے بھائی محمد مہدی 29 دسمبر 2025 کو دارالحکومت ہرارے میں انتقال کر گئے۔ زمبابوے کرکٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد مہدی پیدائشی طور پر ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا تھے اور حالیہ طبی پیچیدگیوں کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی عمر صرف 13 برس تھی۔
???????? ???????????????????????????? ???????????????????????????????????????????? ???????? ???????????????????????????????? ???????????????? ???????? ???????????? ???????????????? ???????? ???????????? ????????????????????????????
Zimbabwe Cricket (ZC) extends its heartfelt condolences to Zimbabwe T20I Captain Sikandar Raza and his family following the untimely passing of his beloved… pic.
— Zimbabwe Cricket (@ZimCricketv) December 31, 2025
زمبابوے کرکٹ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بورڈ، انتظامیہ، کھلاڑی اور عملہ اس مشکل گھڑی میں سکندر رضا اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔ بیان میں مرحوم کی تدفین 30 دسمبر کو وارن ہلز قبرستان، ہرارے میں ہونے کی بھی تصدیق کی گئی۔
سکندر رضا نے بھی سوشل میڈیا پر اس المناک خبر پر ردعمل دیتے ہوئے زمبابوے کرکٹ کے بیان کو ٹوٹے دل کے ایموجی کے ساتھ شیئر کیا، جس سے ان کے غم اور صدمے کی عکاسی ہوتی ہے۔
یہ ذاتی سانحہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سکندر رضا پیشہ ورانہ طور پر ایک اہم مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ وہ حال ہی میں یو اے ای میں آئی ایل ٹی ٹوئنٹی 2025 میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے شارجہ واریئرز کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 میچز میں 171 رنز بنائے اور 10 وکٹیں حاصل کیں۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق سکندر رضا آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں زمبابوے کی قیادت کریں گے، تاہم اس المناک واقعے کے بعد دنیا بھر کے شائقین اور کرکٹ برادری کی ہمدردیاں اور دعائیں رضا خاندان کے ساتھ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
زمبابوے سکندر رضا سکندر رضا کو صدمہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زمبابوے سکندر رضا کو صدمہ زمبابوے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔