طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغانستان بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر) — طالبان کی غیر جمہوری، آمرانہ اور پرتشدد پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان تیزی سے عالمی تنہائی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد متعدد ممالک نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود یا مکمل طور پر معطل کر دیے ہیں، جس کے باعث افغان عوام کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
طالبان کی انتہا پسند سوچ کے باعث دنیا بھر میں افغان سفارت خانوں کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ، ترکیہ اور ناروے کے بعد اب جاپان نے بھی افغانستان کا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو طالبان حکومت کی سفارتی ناکامی اور عالمی سطح پر عدم قبولیت کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
افغان جریدے کابل ٹائمز نے جاپان میں افغان سفارت خانے کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 31 جنوری 2026 سے سفارت خانے میں تمام سیاسی اور اقتصادی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔ جریدے نے خبردار کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں کے لیے سفارتی مشنز کی بندش سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے ان کے قانونی، انتظامی اور دستاویزی مسائل میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث کئی ممالک نے افغان شہریوں کے داخلے سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے ہیں۔ افغان جریدے آمو کے مطابق، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روس نے افغان مزدوروں کی بھرتی سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور شدت پسندی کے باعث امریکا، جرمنی، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کا عمل بھی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی غیر جمہوری اور انتہا پسند پالیسیوں نے افغانستان کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر دیا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ افغان عوام کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طالبان کی نے افغان کے باعث
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔