اے این ایف کا تعلیمی اداروں اور مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کی جانب سے تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران اے این ایف نے خاتون سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ مجموعی طور پر 23 کروڑ 13 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 198.15 کلوگرام منشیات برآمد کی گئیں۔
اے این ایف کے مطابق تعلیمی اداروں کے گردونواح میں خصوصی کارروائیاں کی گئیں۔ سائٹ ایریا کراچی میں ایک یونیورسٹی کے قریب سے 4.
دیگر کارروائیوں میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے کارگو شیڈ سے بحرین بھیجے جانے والے ایک پارسل میں کپڑوں کے اندر چھپائی گئی 122 گرام آئس برآمد کی گئی۔ اسی طرح کامرہ روڈ اٹک پر ایک خاتون کے قبضے سے 1.1 کلوگرام چرس برآمد کر کے ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
لاہور میں ایک ہوٹل کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم کے قبضے سے 530 گرام ویڈ برآمد ہوئی، جبکہ اسلام آباد میں پی ڈبلیو ڈی روڈ کے قریب ایک ملزم سے 2 گرام کوکین برآمد کی گئی۔
سب سے بڑی کارروائی بلوچستان میں کی گئی جہاں خوجک بائی پاس، ضلع کوئٹہ سے 192 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ اے این ایف کے مطابق تمام کارروائیوں کے بعد انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے اور تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانے کے لیے ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں برا مد کی گئی اے این ایف
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔