برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے حال ہی میں بی بی سی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی نوجوانی کے دوران ایک صدمہ خیز واقعے کا انکشاف کیا ہے، جس میں انہیں ٹرین میں ایک اجنبی شخص کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔
ملکہ کمیلا نے بتایا کہ اس وقت وہ تقریباً 16 یا 17 سال کی تھیں اور ٹرین میں کتاب پڑھ رہی تھیں کہ اچانک ایک اجنبی شخص نے ان پر حملہ کیا اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل لمحے میں انہیں اپنی والدہ کی نصیحت یاد آئی، جس سے وہ ہمت پائیں اور فوراً حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا۔ ملکہ کمیلا نے بتایا کہ انہوں نے جوتا اتار کر حملہ آور پر دے مارا اور مزاحمت کے بعد فوراً ٹرین سے اتر گئیں۔
ملکہ کمیلا کے مطابق یہ واقعہ کئی برسوں تک ان کے لیے ذہنی صدمے کا سبب بنا رہا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی گھریلو تشدد یا ہراسانی کے موضوع پر بات ہوتی ہے، یہ واقعہ انہیں دوبارہ یاد آ جاتا ہے اور آج بھی انہیں پریشان کرتا ہے۔
یہ انکشاف نہ صرف ملکہ کمیلا کی ذاتی ہمت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ نوجوانوں میں خوداعتمادی اور خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملکہ کمیلا نے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف