عمران خان اپنی سزا بھگتیں گے‘ انہیں کوئی این آر او نہیں ملے گا‘ گورنر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-25
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے اگر مذاکرات ہوں گے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی۔ میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا وفاقی حکومت کی پی ٹی آئی سے مذاکرات سے متعلق پیپلزپارٹی سے ابھی بات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ماضی میں بھی پی ٹی آئی نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا ہے، مذاکرات اگر ہوں گے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی اپنی سزا بھگتیں گے اور انہیں کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے لیے صوبے کو تباہ کیا ہوا ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اپنے صوبے پر بھی توجہ دے، ہماری 16 مہینے کی حکومت میں ہم نے اتحادیوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کے لیے بٹھایا تھا، لیکن اس کے بعد پی ٹی آئی نے 9 مئی واقعات کیے۔گورنر پختونخوا نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ چاہتے ہیں کہ سیاسی مسئلے کا حل سیاستدان نکالیں، پی ٹی آئی قیادت ایک طرف کہتی ہے کہ مذاکرات کرتے ہیں، دوسری طرف بانی پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی سے متعلق انتشار انگیز ٹوئٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی فیصلہ کرلے کہ ان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پی ٹی آئی والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے اب امپورٹڈ لیڈرز پر کام شروع ہوگیا ہے۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا نام دیا، پتا نہیں ان لیڈرز کی ایکسپائری تاریخ کب ہے؟ پی ٹی آئی کا کسی سے کام ختم ہو جائے تو اسے فارغ کردیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی فیصل کریم کنڈی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔