پاکستان میں ٹیلی کام انقلاب، صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ برائے 2024–25 نے ملک کے ٹیلی کام شعبے میں نمایاں ترقی اور استحکام کی تصویر پیش کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ براڈبینڈ کنکشنز 15 کروڑ سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ٹیلی کام کوریج 92 فیصد سے زائد ہو چکی ہے اور براڈبینڈ پینیٹریشن 60 فیصد سے آگے نکل گئی ہے، جو ڈیجیٹل رابطوں میں تیز رفتار بہتری کی علامت ہے۔ ٹیلی کام شعبے کی مجموعی آمدن ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح قومی خزانے میں ٹیلی کام شعبے کی شراکت 402 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو سال 2024 میں 336 ارب روپے تھی۔ علاوہ ازیں شعبے میں سرمایہ کاری میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 838 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ انفرا اسٹرکچر میں توسیع کے باعث 2025 میں ڈیٹا کے استعمال کا حجم 27 ہزار 727 پیٹا بائٹس تک جا پہنچا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں 95 فیصد سیلولر نیٹ ورکس فورجی پر منتقل ہو چکے ہیں جب کہ بین الاقوامی بینڈوتھ 17.
پی ٹی اے کے مطابق موبائل فون کی مقامی تیاری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں 95 فیصد سے زائد موبائل فونز پاکستان میں تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں 68 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔ سائبر سیکورٹی کے میدان میں بھی پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور صارفین کی شکایات میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں ٹیلی کام
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔