حد نگاہ میں بہتری، موٹروے کے دو سیکشنز ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
شدید دھند کے باعث بند کیے گئے موٹروے کے دو اہم سیکشنز کو اب ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
گزشتہ رات سینٹرل ریجن میں دھند کی شدت کے باعث متعدد موٹرویز اور شاہراہیں بند کی گئی تھیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جس کی تصدیق موٹروے پولیس سینٹرل ریجن کے ترجمان سید عمران احمد نے کی۔
انہوں نے بتایا کہ موٹروے ایم تھری (فیض پور سے جڑانوالہ تک) اور موٹروے ایم ٹو (لاہور سے ہرن مینار تک) اب حد نگاہ میں بہتری کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، لاہور ایسٹرن بائی پاس کو بھی رات کے وقت دھند کی شدت کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔
موٹروے پولیس نے شہریوں کو احتیاطی ہدایات بھی جاری کی ہیں:
دھند میں لین کی خلاف ورزی سے گریز کریں کیونکہ یہ حادثات کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔
غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں، صبح 10 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان حالات نسبتاً محفوظ ہیں۔
ڈرائیور حضرات فوگ لائٹس کا استعمال کریں، تیز رفتاری سے بچیں اور آگے والی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔
سید عمران احمد نے مزید کہا کہ شہری کسی بھی ایمرجنسی یا رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن 130 سے ہر وقت رابطہ کر سکتے ہیں۔
موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے جاری ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ دھند کے دوران حادثات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔