پی ٹی آئی کا اہم فیصلہ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ ہموار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ میں حائل بڑی قانونی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی نے سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے دائر کی گئی عدالتی پٹیشن واپس لے لی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد ایوانِ زیریں میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ دوبارہ آگے بڑھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں، جو 12 جنوری سے شروع ہوگا، قواعد کے تحت نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اہم اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
اس سے قبل عدالت میں معاملہ زیرِ سماعت ہونے کے باعث اسپیکر اس تقرری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے ایڈوائزر محمد مشتاق نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد اب نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
ان کے مطابق بنگلہ دیش سے واپسی کے بعد آئندہ ہفتے اپوزیشن وفد کی اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات متوقع ہے، جس میں مطلوبہ طریقۂ کار کو آگے بڑھایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:
واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ملاقات کے دوران آگاہ کیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس وقت خالی ہے اور ان کی جماعت نے عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست واپس لے لی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں حائل بڑی رکاوٹ بظاہر ختم ہوتی نطر آتی ہے، واضح رہے کہ عمر ایوب کی نااہلی کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان نے محمود خان اچکزئی کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی منظوری دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر اسپیکر ایاز صادق بنگلہ دیش بیرسٹر گوہر تحریک انصاف عمر ایوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر اسپیکر ایاز صادق بنگلہ دیش بیرسٹر گوہر تحریک انصاف عمر ایوب نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری قومی اسمبلی میں عمر ایوب کے بعد
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔