اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی نامزدگی پر اعتراضات، دستاویز اسپیکر آفس میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-23
اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پر اعتراضات کے معاملے پر بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر نے عدالتی کیسز سے متعلق دستاویز اسپیکر آفس میں جمع کرادیں۔ ایڈوائزر قومی اسمبلی محمد مشتاق نے دستاویزات وصول کرلیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سے متعلق کوئی معاملہ کسی عدالت میں زیر التواء نہیں ہے۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ بلاتاخیر اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ ایڈوائزر قومی اسمبلی محمد مشتاق نے کہا کہ پہلی بار آپ کا باضابطہ جواب موصول ہوا، اب پراسیس شروع ہوگا۔ محمد مشتاق نے کہا کہ اب ہم اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہونے کا اعلان کریں گے۔ ہم اب پوری اپوزیشن کو آگاہ کریں گے کہ کاغذات جمع کرائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :