راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں نئے سال کے موقع پر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈاکٹروں نے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق، ماں روبینہ نے اسپتال میں گزشتہ روز بچے کو جنم دیا۔ بچے کی حالت ابتدا میں نہایت نازک تھی، جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے جلد بازی میں اسے مردہ قرار دیتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس میں یہ بھی درج تھا کہ میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔
ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کے دستخط اور مہر موجود تھیں۔ تاہم جب لواحقین نے ‘میت’ وصول کی تو حیران رہ گئے کہ بچہ سانس لے رہا تھا اور اس کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا۔ فوری طور پر بچے کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ اس کی زندگی محفوظ بنائی جا سکے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر محمود ملک نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق، بچے کو **لیزارس سنڈروم** لاحق تھا، جو ایک نایاب حالت ہے جس میں موت ظاہر ہونے کے بعد انسان دوبارہ سانس لینے لگتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔
یہ واقعہ ڈاکٹروں کی انسانی غلطی کے ساتھ ساتھ قدرتی معجزے کی بھی مثال بن گیا، اور بچے کی زندگی محفوظ رہنے پر اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیتھ سرٹیفکیٹ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔