راولپنڈی: ڈاکٹرز نے غلطی سے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی میں ہولی فیملی اسپتال کے ڈاکٹرز نے ایک نومولود بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، حالانکہ بچہ زندہ تھا۔
والدین نے جب بچے کی حالت دیکھی تو اس کی سانس چل رہی تھی، جس کے بعد بچہ فوری طور پر وینٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔
والدین کے مطابق بچے کی پیدائش گزشتہ روز ہوئی تھی اور اس کی حالت نازک تھی، لیکن اسپتال نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچے کی میت لواحقین کے حوالے کرنے کی تصدیق کر دی۔ والدین نے بتایا کہ جب بچہ وصول کیا تو آکسیجن ماسک کے باوجود سانس لے رہا تھا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کو Lazarus Syndrome لاحق تھا، جس میں عارضی طور پر سانس مدہم ہو جاتی ہے، اور اسی وجہ سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا۔ اسپتال نے معاملے کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور کہا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔