پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئے سال کا آغاز مثبت انداز میں کیا، جہاں جمعرات کے روز 100 انڈیکس نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 176,000 پوائنٹس کو چھو لیا۔

دن 12 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 175,947.32 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 1,893 پوائنٹس یعنی 1.09 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 1 لاکھ 75 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

مارکیٹ میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، خصوصاً کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھی گئی۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1962.

56 points (+1.13%) at midday trading. Index is at 176,016.88 and volume so far is 337.24 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/m960TsxVdq

— Investify Pakistan (@investifypk) January 1, 2026

او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے بڑے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

مالی محاذ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 26-2025 کے پہلے 6 ماہ یعنی جولائی تا دسمبر کے دوران عارضی طور پر 6,154 ارب روپے کی وصولیاں کیں، جبکہ مقررہ ہدف 6,490 ارب روپے تھا۔

مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا

اس طرح ٹیکس وصولیوں میں 336 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔

دسمبر 2025 میں ریونیو شارٹ فال کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ متبادل یا ہنگامی اقدامات فعال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز سال کے آخری کاروباری دن منافع کے حصول کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 418.45 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 174,054.32 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بھی بدھ کے روز وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں کمی دیکھی گئی، جہاں سال 2025 کے آخری دن ہلکی ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا مناسب سمجھا۔

مزید پڑھیں: سال 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے کیسا رہا اور 2026 میں کیا رجحان رہے گا؟

قیمتی دھاتوں میں بھی منافع خوری کا رجحان غالب رہا، جب کہ عالمی منڈیاں ایک اتار چڑھاؤ بھرے سال کے اختتام کی جانب بڑھتی نظر آئیں۔

امریکا کے تینوں بڑے اسٹاک انڈیکسز منفی زون میں بند ہوئے، اگرچہ وہ ریکارڈ سطحوں کے قریب رہے اور سالانہ بنیادوں پر دوہرے ہندسے کی مضبوط نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

تینوں انڈیکسز نے سہ ماہی بنیادوں پر منافع درج کیا، جبکہ ڈاؤ جونز نے ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا، تاہم ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک معمولی ماہانہ کمی کا شکار رہے۔

ماہرین کے مطابق بدھ کے روز کی محدود نقل و حرکت ایک ایسے سال کا اختتام تھی جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بار بار ٹیرف کی دھمکیوں، ڈالر کی کمزوری اور مصنوعی ذہانت کے گرد جاری سرمایہ کاری کے جنون کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئل مارکیٹنگ آئل اینڈ گیس آئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان شیئرز فیڈرل بورڈ آف ریونیو منافع وال اسٹریٹ یونائیٹڈ بینک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ ا ئل اینڈ گیس ا ئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو منافع وال اسٹریٹ یونائیٹڈ بینک اسٹاک ایکسچینج کے روز

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ