نئے سال کا شاندار آغاز، اسٹاک مارکیٹ 176 ہزار پوائنٹس کی تاریخ ساز سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئے سال کا آغاز مثبت انداز میں کیا، جہاں جمعرات کے روز 100 انڈیکس نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 176,000 پوائنٹس کو چھو لیا۔
دن 12 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 175,947.32 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 1,893 پوائنٹس یعنی 1.09 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 1 لاکھ 75 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
مارکیٹ میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، خصوصاً کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھی گئی۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1962.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 1, 2026
او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے بڑے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
مالی محاذ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 26-2025 کے پہلے 6 ماہ یعنی جولائی تا دسمبر کے دوران عارضی طور پر 6,154 ارب روپے کی وصولیاں کیں، جبکہ مقررہ ہدف 6,490 ارب روپے تھا۔
مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
اس طرح ٹیکس وصولیوں میں 336 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔
دسمبر 2025 میں ریونیو شارٹ فال کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ متبادل یا ہنگامی اقدامات فعال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز سال کے آخری کاروباری دن منافع کے حصول کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 418.45 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 174,054.32 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی بدھ کے روز وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں کمی دیکھی گئی، جہاں سال 2025 کے آخری دن ہلکی ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا مناسب سمجھا۔
مزید پڑھیں: سال 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے کیسا رہا اور 2026 میں کیا رجحان رہے گا؟
قیمتی دھاتوں میں بھی منافع خوری کا رجحان غالب رہا، جب کہ عالمی منڈیاں ایک اتار چڑھاؤ بھرے سال کے اختتام کی جانب بڑھتی نظر آئیں۔
امریکا کے تینوں بڑے اسٹاک انڈیکسز منفی زون میں بند ہوئے، اگرچہ وہ ریکارڈ سطحوں کے قریب رہے اور سالانہ بنیادوں پر دوہرے ہندسے کی مضبوط نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
تینوں انڈیکسز نے سہ ماہی بنیادوں پر منافع درج کیا، جبکہ ڈاؤ جونز نے ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا، تاہم ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک معمولی ماہانہ کمی کا شکار رہے۔
ماہرین کے مطابق بدھ کے روز کی محدود نقل و حرکت ایک ایسے سال کا اختتام تھی جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بار بار ٹیرف کی دھمکیوں، ڈالر کی کمزوری اور مصنوعی ذہانت کے گرد جاری سرمایہ کاری کے جنون کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل مارکیٹنگ آئل اینڈ گیس آئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان شیئرز فیڈرل بورڈ آف ریونیو منافع وال اسٹریٹ یونائیٹڈ بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ ا ئل اینڈ گیس ا ئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو منافع وال اسٹریٹ یونائیٹڈ بینک اسٹاک ایکسچینج کے روز
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔