طلبہ کو پارلیمانی نظام سے روشناس کرانے کے لیے ایئر یونیورسٹی کے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 January, 2026 سب نیوز


اسلام آباد (سب نیوز)
ایئر یونیورسٹی، ایچ الیون کیمپس کے 94 رکنی طلبہ و طالبات کے ایک وفد نے فیکلٹی ممبر کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کا مطالعاتی دورہ کیا۔ وفد کی آمد پر ایوانِ بالا کے اعلیٰ حکام نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔


مطالعاتی دورے کے دوران طلبہ و طالبات کو سینیٹ میوزیم لے جایا گیا جہاں انہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ، قانون سازی کے عمل، ایوانِ بالا کے قومی امور میں کردار، سینیٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار، سینیٹ انتخابات اور دیگر پارلیمانی امور سے متعلق جامع اور معلوماتی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وفد کو سینیٹ کی تاریخ اور اہم پارلیمانی مراحل پر مبنی ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جسے طلبہ نے گہری دلچسپی سے دیکھا۔


وفد کو سینیٹ ہال کا دورہ بھی کرایا گیا جہاں انہیں اجلاس کی کارروائی کے طریقۂ کار، قانون سازی کے مختلف مراحل اور پارلیمانی کمیٹیوں کے نظام سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔ بریفنگ کے دوران پارلیمانی ڈھانچے میں کمیٹیوں کے مؤثر کردار اور قانون سازی کے عمل میں ان کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔


بعد ازاں وفد نے “گلی دستور” کا دورہ کیا، جہاں انہیں آئینِ پاکستان کی تشکیل، آئینی ارتقاء اور ملک کی آئینی تاریخ کے اہم و نمایاں مراحل سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ طلبہ و طالبات نے آئین پاکستان سے متعلق اس تعلیمی و معلوماتی تجربے کو نہایت مفید قرار دیا۔


دورے کے اختتام پر ایئر یونیورسٹی کے وفد نے سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے فراہم کی گئی جامع بریفنگ اور رہنمائی پر شکریہ ادا کیا اور اس مطالعاتی دورے کو اپنے تعلیمی سفر میں ایک یادگار اور معلومات افزا تجربہ قرار دیا۔
٭٭٭٭٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیا پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیا نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر حلف اٹھا لیا، امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ اسلام آباد کیرئیر کالج جنوری 2026 میں تین نئی برانچز کے افتتاح کا اعلان ٹرمپ کا شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ سے نیشنل گارڈز واپس بلانےکا فیصلہ آزادکشمیر: ماں نے دوست کیساتھ مل کر اپنے 3 بچوں کو قتل کر دیا،لاشیں تیزاب پھینک کر دفنا دیں نواز شریف سے ہونیوالے ظلم کی قیمت پاکستانی قوم مدتوں ادا کریگی: خواجہ آصف TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایئر یونیورسٹی کا دورہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی