2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں کا کیا رجحان رہے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
2026 میں پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں کے رجحانات کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ 2025 میں مارکیٹ کس مرحلے پر کھڑی تھی۔ اس عرصے میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجوہات عالمی سطح پر چینی مینوفیکچررز کی حد سے زیادہ پیداوار، روپے کی نسبتاً مستحکم صورتحال تھی۔
سال کے آخری ہفتوں میں بھی سولر پینلز کی قیمت قریباً مستحکم رہی کیونکہ سردیوں کے موسم میں مانگ کا کم ہونا تھا۔ مگر سال کے آخری چند دنوں کی بات کی جائے تو سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے؟ اور 2026 میں اس کا کیا رجحان رہا سکتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سولر انڈسٹری سے وابستہ محمد گل باز کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں قریباً 8 سے 11 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں مزید 10 سے 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق چین میں ماڈیولز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں امپورٹ ہونے والے سولر پینلز پر پڑے گا۔ ان کا خیال ہے کہ جو تاجر اس وقت امپورٹ کریں گے، وہ مستقبل میں بہتر منافع حاصل کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں: کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟
ان کا مزید کا مزید کہنا تھا کہ 2026 کے شروعات میں پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں بڑھیں گی۔ ابھی فی واٹ سولر پینل کی قیمت اگر 27 یا 28 روپے ہے۔ تو یہ بڑھ کر 38 یا 39 روپے تک جا سکتی ہیں۔
انجینئر نور بادشاہ نے بتایا کہ 2025 کے آخر، خصوصاً دسمبر کے ریٹس کی بنیاد پر دیکھا جائے تو 2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کوئی خاص بڑا اضافہ فی الحال تو ممکن نہیں لگ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف برانڈز میں قیمتوں کا اضافہ قریباً 3 سے 5 فیصد کے درمیان رہے گا، جو کسی بڑے جھٹکے کے بجائے ایک قدرتی مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
انجینئر نور بادشاہ کے مطابق عالمی سطح پر صورتحال کو دیکھا جائے تو 2025 میں چین کی کچھ پالیسی تبدیلیوں، جیسے وی اے ٹی ریبیٹ کا خاتمہ اور پیداوار میں جزوی کمی، کی وجہ سے سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں قریباً 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ امکان موجود ہے کہ 2026 میں بھی قیمتوں پر ہلکا دباؤ رہے گا۔ تاہم عالمی اوور سپلائی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، اس لیے کسی بہت بڑے اضافے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستانی مارکیٹ کے تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ 2025 کے آخر میں قیمتیں تاریخی طور پر کم سطح پر پہنچ چکی تھیں، حتیٰ کہ کچھ پینلز 18 سے 20 روپے فی واٹ تک بھی دستیاب تھے۔ پھر کچھ معمولی اضافہ ہوا۔ ایسے میں 2026 کے دوران قیمتوں میں یا تو استحکام رہنے یا ہلکے اضافے کا امکان زیادہ ہے، جو عموماً 3 سے 10 فیصد کے درمیان ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں قریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے باعث آنے والے مہینوں میں سولر پینلز کی طلب میں کمی متوقع ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کسی بڑے اضافے کا امکان کم ہے اور ریٹس قابو میں رہیں گے۔
ان کے مطابق 2026 کے دوران بھی مارکیٹ میں مجموعی طور پر قیمتوں کے استحکام کا امکان ہے۔ اگرچہ چین میں سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے اثرات محدود رہنے کی توقع ہے۔ اسی لیے مستقبل میں سولر پینلز کی قیمتوں میں قریباً 5 سے 10 فیصد تک ہلکا سا اضافہ ممکن ہے، تاہم کسی غیر معمولی یا شدید مہنگائی کے امکانات نظر نہیں آتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2026 سولر انڈسٹری سولر پینلز قیمتوں کا رجحان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر انڈسٹری سولر پینلز قیمتوں کا رجحان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کی قیمتوں میں قریبا دیکھنے میں کے مطابق کا امکان فیصد تک
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔