صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ ڈرون حملہ، روس نے ویڈیو جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو:روس نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے، روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک تباہ شدہ ڈرون کو برف سے ڈھکے جنگلاتی علاقے میں پڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس کا مقصد ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بنانا تھا، حملے کے باوجود صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
???????????????? – RUSSIA | UKRAINE
???? The Russian Ministry of Defense has released a video it claims shows the debris of a Ukrainian drone intercepted while heading toward the residence of Vladimir Putin in Valdai.
???? However, nighttime conditions and weather limitations make it… pic.twitter.com/PIW2aicE11
— NEXUSx (@Nexus_osintx) December 31, 2025
روس نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں واقع صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، 28 اور 29 دسمبر کے درمیان یوکرین کی جانب سے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون فائر کیے گئے، روسی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ یوکرین کا یہ اقدام ریاستی دہشت گردی کے برابر ہے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملوں کے روسی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیوٹن کی رہائش گاہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔