بنگلہ دیش کا ایئربس کے بجائے بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ایئر بس یا بوئنگ سے طیارے خریدنے کے معاملے پر کئی ماہ کی بحث کے بعد بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ ایئرلائن کی جنرل منیجر (پبلک ریلیشنز) بُسرا اسلام نے جمعرات کو فیصلے کی تصدیق کی۔ یہ اقدام بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے اس پہلے سے کیے گئے عزم کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت امریکا کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے بوئنگ طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بوئنگ کو دھچکا، ایئر چائنا نے 60 ایئربس طیاروں کا انتخاب کر لیا
حکام کے مطابق بوئنگ نے 24 نومبر کو باضابطہ طور پر اپنی پیشکش جمع کرائی تھی، جس میں طیاروں کی قیمتوں اور ترسیل کے شیڈول کی تفصیلات شامل تھیں۔ بعد ازاں بورڈ نے اس پیشکش کی منظوری دے دی۔
منظور شدہ پیکیج کے تحت بِمان بنگلہ دیش 8 بوئنگ 787-10 ڈریم لائنرز، دو 787-9 ڈریم لائنرز اور چار 737-8 طیارے خریدے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس توسیع کا مقصد ملک کی فضائی صلاحیت میں اضافہ، بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانا اور مستقبل میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایمریٹس نے 65 نئے بوئنگ طیارے خریدنے کا آرڈر دے دیا، کتنے ارب ڈالر کی ڈیل ہوئی؟
ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق طیاروں کی آمد کے بعد بِمان نہ صرف اپنی کمرشل پروازوں میں اضافہ کر سکے گی بلکہ ریاستی و سرکاری فضائی خدمات کو بھی مزید وسعت دی جا سکے گی۔ حتمی معاہدہ مالی معاملات اور ریگولیٹری منظوریوں کی تکمیل کے بعد طے پائے گا، جبکہ طیاروں کی ترسیل مرحلہ وار کی جائے گی۔
دوسری جانب، صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر بس نے بھی سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں، جن میں یورپی یونین کے متعدد سفیروں کی جانب سے ڈھاکا سے رابطے شامل تھے، تاہم یہ کوششیں فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئربس بنگلہ دیش بوئنگ طیارے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئربس بنگلہ دیش طیارے طیارے خریدنے کا بنگلہ دیش کے بعد
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔