ڈاکٹر امجد سراج دوسری بار جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن کو دوسری 4 سالہ مدت کے لیے وائس چانسلر مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
یہ منظوری ڈاکٹر امجد سراج میمن کی شاندار کارکردگی کے باعث دی گئی ہے۔
گزشتہ دو برس سے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے کسی بھی وائس چانسلر کو دوسری مدت نہیں دی تھی اور اس حوالے سے تمام سیاسی اور سفارتی دباؤ قبول بھی کیا۔ تاہم ڈاکٹر امجد سراج میمن کے لیے انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور انہیں دوسری چار سالہ مدت دینی پڑی۔
اب اس اقدام سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی بھی دوسری 4 سالہ مدت کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے، ان کی مدت رواں برس 28 جولائی کو ختم ہوگی۔
اسی طرح چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع کی 4 سالہ مدت میں بھی توسیع کا امکان پیدا ہوگیا ہے، ان کی مدت رواں برس جون میں مکمل ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر امجد سراج وائس چانسلر سالہ مدت
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔