عمران خان سزا پوری کریں، مذاکرات میں رِہائی پر بات نہیں ہوگی، گورنر پخونخوا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ عمران خان پانی سزا پوری کریں، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں رِہائی سے متعلق بات نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنی سزا مکمل طور پر بھگتیں گے اور انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سے مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی زیر بحث نہیں آئے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملے پر اب تک پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی گئی، اگر واقعی سنجیدہ مذاکرات کی بات ہوتی تو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے بیان دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں بھی اس جماعت نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے لیے پورے صوبے کو تباہ کیا ہوا ہے۔ پارٹی کو چاہیے کہ وہ صوبے کے عوام پر بھی توجہ دے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی 16 ماہ کی حکومت کے دوران اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا، تاہم اس کے بعد 9 مئی کے واقعات پیش آئے جن سے سیاسی ماحول مزید خراب ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ اس بات کی حامی رہی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاستدان خود نکالیں، لیکن پی ٹی آئی قیادت کا طرزعمل متضاد ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی میں امپورٹڈ لیڈرز پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے نام دیے گئے، جن کے بارے میں خود پی ٹی آئی کو معلوم نہیں کہ ان کی سیاسی ایکسپائری کب ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔