اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو اسلامی ممالک، خلیجی ریاستوں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے، اس حوالے سے ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حافظ طاہر اشرفی اس سے قبل بھی بطور نمائندہ خصوصی یہ ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور موجودہ حالات میں ان پر اسلامی اور خلیجی ممالک کے ساتھ رابطہ کاری، تعلقات کو مضبوط بنانے اور بہتر بنانے کی اہم ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔

حافظ طاہر اشرفی رابطہ عالمِ اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی اہم عالمی اور اسلامی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں۔ انہیں اسلامی اور عرب دنیا کی متعدد اہم شخصیات کے ساتھ ذاتی اور قریبی تعلقات حاصل ہیں، جو سفارتی اور مذہبی سطح پر پاکستان کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ حافظ طاہر اشرفی کی تقرری سے اسلامی و خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے پاکستان کا مثبت کردار اجاگر ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حافظ طاہر اشرفی کے ساتھ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد