پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ آج پاکستان اور بھارت نے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان نے فہرستیں انڈین ہائی کمشنر کے حوالے کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سال میں 2 مرتبہ ان فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کی وحدت اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان کسی بھی ایک یمنی فریق کی جانب سے اٹھانے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس معاملے میں مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری کی حمایت کرتے ہیں۔ امید ہے یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں باہمی تعاون سے دیرپا حل کی جانب بڑھیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مرحومہ کے بیٹے سے ملاقات کی اور تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بنگلادیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے ملاقات بھی کی۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا ہے، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے معاملے پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ساتھ ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے، جس میں صومالی لینڈ کی مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ نے ٹیلیفون کال کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبکستان کے صدر کے آئندہ ماہ دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ علاوہ ازیں صومالیہ کے وزیر خارجہ نے بھی فون کرکے اسحاق ڈار کا حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ پاک چین وزارت خارجہ کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کے بعد ہمارا سفارت خانہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں سے متعلق کابل میں سفارت خانہ طالبان حکام سے بھی رابطے میں ہے۔ 1100 سے زائد پاکستانیوں نے کابل میں سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربدترین بیروزگاری ،پوری نوجوان نسل مایوس ،تاریخ معاف نہیں کریگی، سابق گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی بدترین بیروزگاری ،پوری نوجوان نسل مایوس ،تاریخ معاف نہیں کریگی، سابق گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی طلبہ کو پارلیمانی نظام سے روشناس کرانے کے لیے ایئر یونیورسٹی کے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیا نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر حلف اٹھا لیا، امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ اسلام آباد کیرئیر کالج جنوری 2026 میں تین نئی برانچز کے افتتاح کا اعلان ٹرمپ کا شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ سے نیشنل گارڈز واپس بلانےکا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی فہرستوں کا تبادلہ پاکستان اور بھارت جوہری تنصیبات اسحاق ڈار انہوں نے ممالک کے کرتا ہے کیا گیا کے ساتھ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش