Islam Times:
2026-07-24@05:38:54 GMT

سعودی عرب کا یمن میں امارات کی شکست کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

سعودی عرب کا یمن میں امارات کی شکست کا دعویٰ

اسلام ٹائمز: اماراتی یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار عبدالخالق عبداللہ نے یمن میں مکلا بندرگاہ پر اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ بنائے جانے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی عرب کے ایک بندرگاہ پر کھلا فوجی حملہ نہ تو شجاعت کی علامت ہے اور نہ ہی باعثِ فخر۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اپنی قانونی مدت پوری کر چکے ہیں، اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں اور ان کے بیانات کی جگہ کوڑے دان کے سوا کہیں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابوظبی جنوبی عبوری کونسل کی حمایت جاری رکھے گا۔ خصوصی رپورٹ: 

سعودیہ کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک متنازع پوسٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یمن میں امارات کا کیس بند کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق سعودی عرب کے ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ نے ایکس پر لکھا کہ سال کے اختتام سے ایک دن قبل، قانونی حکومت کے حامی اتحاد نے یمن میں امارات کا پرونده بند کر دیا۔ یہ متنازع پوسٹ مختصر وقت میں ہی غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گئی اور اس کے نیچے سینکڑوں تبصرے سامنے آئے، جن میں درجنوں صارفین نے سعودی عرب کی حمایت یا امارات پر تنقید اور اس کے برعکس آراء کا اظہار کیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس کے فوجی دستے طے شدہ اور باضابطہ معاہدوں کے تحت دی گئی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد، 2019 میں یمن میں اپنی فوجی موجودگی کا خاتمہ کر دیں گے۔ یمنی ذرائع نے بھی اطلاع دی ہے کہ امارات کے سینکڑوں فوجیوں اور بھاری فوجی سازوسامان سے لدے چار فوجی کارگو طیارے مکلا ایئرپورٹ سے روانہ ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مکلا بندرگاہ میں اماراتی فوجی سازوسامان پر فضائی حملے اور اس کے بعد یمن میں امارات کے منفی کردار کے خلاف سعودی وزارت خارجہ کے سخت لہجے والے بیان میں جو دونوں ہی غیر معمولی اور بے مثال تھے، ان کے بعد، میڈیا میں بھی یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

سعودی حکومت کے قریب سرکاری ذرائع ابلاغ نے یمن کے حالیہ بحران کی کوریج کے دوران ان پیش رفتوں کو سعودی عرب کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں سعودی میڈیا کے اہم ادارے عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ریاض، مشرقی یمن میں پیش قدمی کے لیے جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے امارات کے اقدامات سے مایوس ہو چکا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ اقدامات اتحاد کے اصولوں اور مقاصد کے منافی ہیں اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کی روح سے ہم آہنگ نہیں۔ اسی سلسلے میں اخبار الشرق الاوسط نے یمن میں جنوبی عبوری کونسل پر امارات کے دباؤ سے سعودی عرب کی مایوسی کے عنوان سے ابوظبی کے اقدامات کو ریاض کے لیے سکیورٹی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔

یہ اخبار، جو سعودی عرب کے سرکاری مؤقف کا عکاس سمجھا جاتا ہے، لکھتا ہے کہ سعودی عرب ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ اس کے سابق اتحادی اس کے قومی مفادات کو خطرے میں ڈالیں۔ الشرق الاوسط نے یمن کے بحران کے حل کے لیے جامع سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اماراتی اقدامات کو ناقابلِ جواز قرار دیا ہے۔ میڈیا ردِعمل کے تناظر میں، سعودی تجزیہ کاروں، اینکرز اور کالم نگاروں نے ان واقعات کو خلیج فارس کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ العربیہ کے سابق اینکر اور معروف سعودی مصنف ترکی الدخیل نے ایکس پر اپنے پیغام میں اماراتی اقدامات کو اتحادی اہداف سے انحراف قرار دیا

 انہوں نے خبردار کیا کہ اس روش کا تسلسل پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی اولین ترجیح اپنی سرحدوں کا تحفظ ہے اور علیحدگی پسند دھڑوں کی کسی بھی بیرونی حمایت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سعودی یمنی تجزیہ کار ہشام العمیسی نے بھی ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب کا حالیہ بیان غیر معمولی، کشیدہ اور معنی خیز ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحران ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے یمن میں فریقین میں سے کسی ایک کی بھی اماراتی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا اور پیش گوئی کی کہ یہ دراڑ اتحاد کے مستقبل پر سنگین اثرات ڈالے گی۔

اماراتی تجزیہ کاروں کا سخت ردعمل:
اس کے برعکس، اماراتی یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار عبدالخالق عبداللہ نے یمن میں مکلا بندرگاہ پر اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ بنائے جانے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی عرب کے ایک بندرگاہ پر کھلا فوجی حملہ نہ تو شجاعت کی علامت ہے اور نہ ہی باعثِ فخر۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اپنی قانونی مدت پوری کر چکے ہیں، اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں اور ان کے بیانات کی جگہ کوڑے دان کے سوا کہیں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابوظبی جنوبی عبوری کونسل کی حمایت جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو جاننا چاہیے، ان کے لیے پیغام ہے کہ امارات اپنے حامیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور اپنے اتحادیوں سے دستبردار نہیں ہوتا۔ اسی طرح ابو ظہبی پولیس کے سابق نائب کمانڈر ضاحی خلفان نے بھی سخت لہجے میں سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ خدا کی رضا کا باعث بنتا ہے اور نہ ہی اس کے بندوں کی خوشنودی کا۔ انہوں نے سعودی حملے اور وزارت خارجہ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں اماراتی فوج کے یمن سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا، کہا کہ اس ضرب کے بعد شمال بھی ہاتھ سے گیا اور جنوب بھی ہاتھ سے گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنوبی عبوری کونسل فوجی سازوسامان یمن میں امارات سعودی عرب کی قرار دیا ہے بندرگاہ پر امارات کے کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اور اس ہے اور کے لیے کہا کہ عرب کے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی