WE News:
2026-07-24@01:14:40 GMT

سال2025  کے دوران درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

سال2025  کے دوران درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

یورپی کوپرنیکس پروگرام کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے کے مطابق سال 2025 میں وسطی ایشیا، ساحل کا خطہ اور شمالی یورپ اپنی تاریخ کے گرم ترین سال سے گزرے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں پیشگی اطلاعات کا جدید نظام قائم کیا جائے، وزیرِ اعظم

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ عالمی سطح پر سال 2024 اور سال 2023 کے بعد تیسرا گرم ترین دور ثابت ہوئے جن کی حتمی تصدیق کوپرنیکس اپنی سالانہ رپورٹ میں جنوری کے اوائل میں کرے گا۔

تاہم خشکی اور سمندروں کے اوسط درجہ حرارت عالمی تصویر تو پیش کرتے ہیں مگر دنیا کے بعض خطوں میں ریکارڈ توڑ گرمی کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتے۔

چونکہ کئی غریب ممالک تفصیلی موسمیاتی ڈیٹا شائع نہیں کرتے اس لیے ماہرین نے کوپرنیکس کے موسمی ماڈلز، تقریباً 20 سیٹلائٹس کے مشاہدات اور موسمیاتی اسٹیشنز کے ڈیٹا کی مدد سے آزادانہ تجزیہ کیا۔ یہ ڈیٹا سنہ 1970 سے اب تک گھنٹہ بہ گھنٹہ پوری دنیا کا احاطہ کرتا ہے۔

تجزیے کے مطابق سال 2025 میں 70 سے زائد ممالک میں 120 ماہانہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔

وسطی ایشیا میں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

وسطی ایشیا کے تمام ممالک میں سالانہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔

مزید پڑھیے: چین کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ آلو کی نئی قسم بنانے کی کوشش کتنی کامیاب ہوئی؟

پہاڑی اور خشکی میں گھرے تاجکستان میں صرف 41 فیصد آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ وہاں دنیا میں سب سے زیادہ غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی جو سنہ 1981 سے سنہ 2010 کے موسمی اوسط سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد تھی۔

مئی سے لے کر اب تک نومبر کے علاوہ ہر ماہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔ قریبی ممالک قازقستان، ایران اور ازبکستان میں بھی درجہ حرارت موسمی اوسط سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

ساحل کے خطے میں شدید گرمی

ساحل اور مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں بھی درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مالی، نائیجر، نائجیریا، برکینا فاسو اور چاڈ میں درجہ حرارت موسمی اوسط سے 0.

7 سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کوئی مفروضہ نہیں، انسانیت کے لیے خطرناک حقیقت ہے، احسن اقبال

نائجیریا میں گزشتہ 12 ماہ تاریخ کے گرم ترین ثابت ہوئے جبکہ دیگر ممالک میں یہ مدت چوتھے گرم ترین برسوں میں شامل رہی۔

ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن نیٹ ورک کے سائنس دانوں کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں شدید گرمی کے واقعات سنہ 2015 کے بعد تقریباً 10 گنا زیادہ ہو چکے ہیں۔

ساحل کا خطہ، جو سینیگال سے سوڈان تک پھیلا ہوا نیم خشک علاقہ ہے، بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے جہاں پہلے ہی مسلح تنازعات، غذائی قلت اور غربت جیسے مسائل موجود ہیں۔

یورپ میں جھلسا دینے والی گرمی

یورپ کے 10 ممالک سالانہ درجۂ حرارت کے نئے ریکارڈ کے قریب پہنچ گئے یا انہیں توڑنے والے ہیں جس کی بڑی وجہ غیر معمولی طور پر گرم موسمِ گرما ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری

سوئٹزرلینڈ اور کئی بلقان ممالک میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت موسمی اوسط سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

اسپین، پرتگال اور برطانیہ میں بھی تاریخ کی بدترین گرمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں شدید جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی۔

برطانیہ میں ایک صدی سے زائد عرصے کی خشک ترین بہار کے باعث پانی کی قلت بھی سامنے آئی۔

اگرچہ شمالی یورپ جون کے آخر میں آنے والی شدید گرمی کی لہر سے نسبتاً محفوظ رہا لیکن وہاں غیر معمولی طور پر گرم خزاں کا موسم دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور آئس لینڈ میں گزشتہ 12 ماہ ریکارڈ کی تاریخ کے 2 گرم ترین برسوں میں شامل ہونے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سال 2025 کا موسم سال 2025 میں درجہ حرارت کا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سال 2025 کا موسم سال 2025 میں درجہ حرارت کا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت کے ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی ڈگری سینٹی گریڈ موسمی اوسط سے ریکارڈ کی ممالک میں کے مطابق سال 2025 کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے