Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:59:04 GMT

اسٹیٹ بینک نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس متعارف کرا دیا

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

اسٹیٹ بینک نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس متعارف کرا دیا

اسلام آباد:(نیوزڈیسک)اسٹیٹ بینک (ایس بی پی) نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس متعارف کرا دیا ہے جس سے ملک میں مالی خدمات تک رسائی، استعمال اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی شمولیت کی کیفیت کی جامع پیمائش ہو سکتی ہے۔

پی ایف آئی آئی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024ء میں مجموعی مالی شمولیت کی سطح 58.1 فیصد تھی۔سٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کویہاں جاری بیان کے مطابق ایس بی پی ایکٹ، 1956ء کے تحت مالی شمولیت کو بہتر بنانا اسٹیٹ بینک کے اہم مینڈیٹ اور مقاصد میں شامل ہے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اسٹیٹ بینک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی، یعنی این ایف آئی ایس 2024ء تا 2028ء، کو نافذ کر رہا ہے تا کہ ملک بھر میں مالی خدمات تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور ان کے استعمال اور معیار میں بہتری لائی جائے۔

اس حکمت عملی کے مطابق پیایف آئی آئی کی تیاری باخبر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی سے متعلق اسٹیٹ بینک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔پی ایف آئی آئی مالی شمولیت کی سطح کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے جو بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بینکاری، غیر بینکاری اور ادائیگی کی خدمات کی عکاسی کرنے والے69 اظہاریوں پر مبنی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل