اسٹیٹ بینک نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)اسٹیٹ بینک (ایس بی پی) نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس متعارف کرا دیا ہے جس سے ملک میں مالی خدمات تک رسائی، استعمال اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی شمولیت کی کیفیت کی جامع پیمائش ہو سکتی ہے۔
پی ایف آئی آئی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024ء میں مجموعی مالی شمولیت کی سطح 58.1 فیصد تھی۔سٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کویہاں جاری بیان کے مطابق ایس بی پی ایکٹ، 1956ء کے تحت مالی شمولیت کو بہتر بنانا اسٹیٹ بینک کے اہم مینڈیٹ اور مقاصد میں شامل ہے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اسٹیٹ بینک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی، یعنی این ایف آئی ایس 2024ء تا 2028ء، کو نافذ کر رہا ہے تا کہ ملک بھر میں مالی خدمات تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور ان کے استعمال اور معیار میں بہتری لائی جائے۔
اس حکمت عملی کے مطابق پیایف آئی آئی کی تیاری باخبر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی سے متعلق اسٹیٹ بینک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔پی ایف آئی آئی مالی شمولیت کی سطح کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے جو بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بینکاری، غیر بینکاری اور ادائیگی کی خدمات کی عکاسی کرنے والے69 اظہاریوں پر مبنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔