گجرات (نیوزڈیسک) انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پسند کی شادی کی خاطر ایک ماں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر اپنے ہی تین معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق، سدرہ نامی خاتون بارہ روز قبل اپنے تین بچوں کے ساتھ اچانک لاپتہ ہو گئی تھی۔ واقعے پر شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جس دوران دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا۔

تحقیقات کے مطابق، ملزمہ سدرہ نے اپنے دوست بابر کے ساتھ مل کر دو سے سات سال کی عمر کے تینوں بچوں کو گلہ دبا کر قتل کیا۔ بعد ازاں، شناخت چھپانے کے لیے بچوں کی لاشوں کو جلایا گیا اور انہیں آزاد کشمیر کے علاقے بھمبر میں دفن کر دیا گیا۔

پولیس نے دورانِ تفتیش بچوں کی لاشیں برآمد کر کے ملزمہ اور اس کے ساتھی کو حراست میں لے لیا۔ ملزمہ نے اعتراف کیا کہ وہ بابر سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اسی مقصد کے لیے اس نے یہ انتہائی سفاک قدم اٹھایا۔

پولیس کے مطابق مقتول بچوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ واقعے نے علاقے میں خوف اور غم کی فضا قائم کر دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار