چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع شرکا و طلبہ سے خطاب کر رہے ہیں۔

چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی پاکستان کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نے اندرون و بیرونِ ملک بہت نام پیدا کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میڈیکل کے شعبے میں، جس کی بڑی وجہ میرٹ پر داخلہ ہے۔ 

تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی 50 فیصد سے زائد لڑکیاں عملی زندگی میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی نقصان بھی ہے۔ 

انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کریں۔ وہ جمعرات کو یوم جامعہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، آرٹسٹ کونسل کے صدر محمد احمد شاہ، یونی کیرینز کے سربراہ پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، نیپا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن، انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر غفران عالم اور مشیر امور طلبہ ڈاکٹر نوشین رضا نے بھی خطاب کیا۔ 

اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سلمان احمد، صوابی ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی اور دیگر بھی موجود تھے۔

قبل ازیں جمعرات کی صبح جامعہ کراچی کے مرکزی سلور جوبلی گیٹ پر نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 

یوم جامعہ کی تقریب کا آغاز حفاظ کرام کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے پر داخلے سے قبل حفاظ کرام تلاوت قرآن کرتے ہوئے جامعہ کراچی میں داخل ہوئے اور وہاں پر موجود تمام نوواردان جامعہ اور دیگر افراد کے ہمراہ جلوس کی شکل میں انتظامی عمارت تک گئے۔

حفاظ کرام تلاوت قرآن پاک کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں مرکزی جلسہ گاہ کی طرف جا رہے ہیں۔

بعد ازاں 6 ہزار نوواردان جامعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان آج بھی تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ انصاف پر مبنی معاشرے ہی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کو برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ 

ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی صرف ڈگری فراہم نہیں کرتی بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی ترقی اور نظریے پر بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہماری شناخت پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ 

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اصل ہیرو ہمارے والدین ہیں جن کی محنت اور قربانیوں کی بدولت ہمیں اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ 

انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی اپنے والدین کی امید ہیں، انہیں مایوس نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لڑکیوں میں تیزی سے تعلیمی اور بالخصوص اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اپنی قابلیت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی والدین کا سہارا بن سکتی ہیں۔ 

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ جامعہ کراچی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اگر پورے ملک کی جامعات میں شائع ہونے والے تمام ریسرچ پیپرز کو یکجا کیا جائے تو بھی وہ جامعہ کراچی میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کے مقابلے میں کم ہوں گے۔ 

انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے تک، بلکہ دورانِ تدریس ہی، طالب علم کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آتی ہے جسے نہ صرف وہ خود بلکہ اردگرد کے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ جامعہ کراچی صرف ڈگری نہیں دیتی بلکہ ایک مکمل شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ 

ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ جامعہ کراچی کی بنیاد 1951ء میں رکھی گئی اور تب سے یہ ادارہ نہ صرف شہر کراچی بلکہ پورے ملک کی تعمیری اور ثقافتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ 

ان کے مطابق جامعہ کراچی پاکستان کا فخر ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہر طالب علم روشن مستقبل کی نوید ہے۔ 

صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی غفران عالم نے کہا کہ پاکستان میں بمشکل 10 فیصد افراد کو جامعات تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے اور جامعہ کراچی میں داخلہ پانا ایک اعزاز اور خوش نصیبی ہے۔ 

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور استفادہ کریں اور ذاتی مفاد سے بڑھ کر ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 

مشیرِ امورِ طلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر نوشین رضا نے جامعہ میں جاری نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے تحت قائم طلبہ سوسائٹیز کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سے فارغ التحصیل کہ جامعہ کراچی جامعہ کراچی کے کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے