گلوبل اکنامک گیلپ سروے: پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
گلوبل اکنامک گیلپ سروے میں پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق پاکستان نے 2026 کے آغاز پر اقتصادی اور امن کے حوالے سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ پاکستان بھارت اور عالمی اوسط دونوں سے آگے رہا ہے۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے 60 ممالک میں کیا گیا جس کے مطابق پاکس
گوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق مجموعی طور پر 31 فیصد کا نیٹ مثبت رجحان بنتا ہے۔ اقتصادی حوالے سے 53 فیصد پاکستانی 2026 کو خوشحالی کا سال سمجھتے ہیں۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق پُرامید پاکستانیوں کی شرح بھارت کے 39 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، یہ عالمی اوسط 24 فیصد سے بھی نمایاں طور پر بلند ہے۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق امن کے حوالے سے بھی پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، 52 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ دنیا میں امن بڑھے گا جبکہ بھارت میں یہ شرح صرف 26 فیصد ہے۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق یہ سطح پاکستان میں 1994 کے بعد ریکارڈ کی گئی امیدوں میں سے ایک بلند ترین سطح ہے۔
تان میں 51 فیصد لوگ آنے والے سال کے بارے میں پُرامید ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔